Bharat Express DD Free Dish

France Begins Airdropping Relief to Gaza: فرانس نے غزہ میں ہوائی جہاز سے گرائے کھانے کے سامان، اگلے کچھ دنوں میں مزید کئی ٹن خوراک غزہ پہنچانے کا کیا اعلان

فرانس کے وزیر خارجہ جین نول باروٹ نے اس ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ فرانس جمعہ سے غزہ کے لیے 40 ٹن امداد ہوائی جہاز سے گرائے گا۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے جمعہ کو کہا کہ اسرائیلی ناکہ بندی کی شکار فلسطینی سرزمین کے بارے میں اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ ماہرین کی اس وارننگ کے بعد کہ فلسطین بھک مری کا شکار ہونے والا ہے، فرانس نے انسانی امداد کی فراہمی کا پہلا ہوائی جہاز غزہ تک پہنچا دیا ہے۔ میکرون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’’فوری انسانی بحران مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے ابھی غزہ پر فوڈ ایئر ڈراپ کیاہے۔‘‘

فرانسیسی صدر نے مزید لکھا کہ ’’لیکن ایئر ڈروپ کافی نہیں ہے۔ بھک مری کے خطرے کا سامنا کرنے کے لیے اسرائیل کو انسانی امداد کی فلسطین تک مکمل رسائی فراہم کرنی چاہیے۔‘‘ انھوں نے اس مدد کے لیے فرانس کے اردنی، اماراتی اور جرمن شراکت داروں کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ وہیں فرانسیسی وزارت خارجہ اور دفاع نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ کئی ٹن خوراک کا سامان غزہ کو اگلے ’’کئی دنوں میں‘‘ پہنچایا جائے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’فرانس زمینی نقل و حمل پر بھی کام کر رہا ہے، جو کہ آبادی کو اشد ضرورت انسانی ہمدردی کے سامان کی بڑے پیمانے پر اور بلا روک ٹوک ترسیل کے لیے سب سے مؤثر حل ہے۔‘‘ فرانس کے وزیر خارجہ جین نول باروٹ نے اس ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ فرانس جمعہ سے غزہ کے لیے 40 ٹن امداد ہوائی جہاز سے گرائے گا۔ واضح رہے کہ 21 ماہ سے زائد جنگ اور مسلسل اسرائیلی ناکہ بندی کے سبب غزہ پٹی میں بھک مری کی صورت حال لگاتار مزید تشویش ناک ہوتی جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read