Bharat Express DD Free Dish

1 in 5 Gaza children faces acute malnutrition: ’’غزہ میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا ہے شکار‘‘، اقوام کی ریلیف ایجنسی نے کہا-ہر دن مزید بگڑتی جا رہی ہے صورت حال

انھوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تمام شراکت داروں سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں بلا روک ٹوک انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنائیں۔

(فوٹو: آر ڈبلیو ایم)

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزیں ’UNRWA‘ نے کہا کہ غزہ شہر میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ غذائی قلت کا شکار ہے اور اس میں لگاتار اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ UNRWA کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا کہ ’’زیادہ تر بچے جن کو ہماری ٹیمیں دیکھ رہی ہیں وہ کمزور، لاغر اور مرنے کے زیادہ خطرے میں ہیں، اگر انھیں فوری طور پر مطلوبہ علاج نہ ملے۔ 100 سے زیادہ لوگ، جن میں سے زیادہ تر بچے ہیں، بھوک سے مر چکے ہیں۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ والدین اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے خود اور بھی زیادہ بھوکے رہ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’جو لوگ UNRWA کلینک تک پہنچتے ہیں ان کے پاس طبی مشورے پر عمل کرنے کے لیے توانائی، خوراک یا ذرائع نہیں ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ غزہ میں انسانی امداد کو اسرائیل کی جانب سے لمبے عرصے سے روک دیے جانے کے باعث یہ بحران لگاتار شدید ہوتا جارہا ہے۔

ہمارے کارکنان تک کو نہیں مل پا رہا ہے کافی کھانا: فلپ لازارینی

فلپ لازارینی نے کہا کہ ’’UNRWA کے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز، دن میں بہت کم کھانا کھا کر زندہ رہے ہیں، اکثر صرف دال پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ وہ کام کے دوران بھوک سے بے ہوش ہو رہے ہیں۔ جب نگراں افراد کو ہی کافی کھانا نہیں مل پا رہا ہے، تو عام انسانی صورت حال کا اندازہ آپ لگا سکتے ہیں۔‘‘

انھوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تمام شراکت داروں سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں بلا روک ٹوک انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنائیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہمارے پاس UNRWA میں، اردن اور مصر میں 6,000 لدے ہوئے ٹرکوں کے برابر خوراک اور طبی سامان موجود ہے۔‘‘ تاہم یہ امداد غزہ تک پہنچ نہیں پا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read