دوماہ بعد اسرائیل حماس جنگ کو پورے دو سال ہوجائیں گے۔ گزشتہ 22 ماہ میں غزہ کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہے۔ 60 ہزارسے زیادہ لوگ موت کے منہ میں جاچکے ہیں جبکہ لاکھوں زخمی ہیں۔ کسی کی جان بموں نے لی توکسی کی بھوک نے۔ تاہم غزہ میں موت کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اب ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ غزہ میں عام بیماریاں بھی جان لیوا بن چکی ہیں۔
یہ رپورٹ دی لانسیٹ کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، غزہ میں اب ایسی بیماریاں پھیل رہی ہیں جو اینٹی بایوٹک دواؤں سے بھی ٹھیک نہیں ہو رہی ہیں۔ رپورٹ کہتی ہے کہ ایسا ہونے سے لوگوں میں بیماری زیادہ دنوں تک رہیں گی اور سنگین ہوتی جائیں گی۔ ساتھ ہی یہ بیماریاں دوسروں میں بھی پھیلیں گی اور موت کا خطرہ بڑھتا چلا جائے گا۔
Lancet کی رپورٹ میں کیا کہا گیا؟
Lancet Infectious Diseases نام کی میڈیکل جرنل میں یہ تحقیق شائع کی گئی ہے۔ اس مطالعہ (تحقیق) کے مطابق، اکتوبر 2023 سے شروع ہوئی اس جنگ کے بعد پہلی باریہ سامنے آیا ہے کہ غزہ میں ملٹی-ڈرگ ریزسٹینٹ یعنی کئی دواؤں پراثرنہ کرنے والے بیکٹیریا کا بڑا خطرہ ہے۔ اسے ایسے سمجھئے کہ بیکٹیریا کئی دواؤں کے تئیں پریشانی کا سبب بن گیا ہے۔ یعنی بیکٹیریا اتنے طاقتور ہوگئے ہیں کہ ان پر دوائیوں کا اثرنہیں ہو رہا ہے۔ لہٰذا مریضوں کا علاج کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہ صورتحال صرف غزہ نہیں بکہ آج پوری دنیا کے لئے پریشانی کا سبب بن چکی ہے۔ لانسیٹ نے اس تحقیق کے لئے غزہ کے الاہلی اسپتال سے 1300 سے زیادہ سیمپل لئے۔ بیشتر سیمپل ایسے لوگوں کے تھے، جن کے زخم ہوائی حملوں یا دھماکوں میں ہوئے تھے۔ ان میں سے دو تہائی میں ایسے بیکٹیریا ملے، جو کئی طرح کی دواؤں سے بھی ختم نہیں ہو رہے تھے۔
تیزی سے بڑھ سکتا ہے خطرہ
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیوایچ او) نے کہا ہے کہ انہیں غزہ میں طبی سامان کا ذخیرہ کرنے کی اجازت دی جائے ورنہ صورتحال مزید خراب ہوجائے گی۔ اس وقت غزہ میں آدھی سے زیادہ ادویات ختم ہوچکی ہیں، اسپتال 240 فیصد سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں اورصرف آدھے اسپتال اورکلینک جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔ تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ اگرجنگ، اسپتالوں اورواٹرپلانٹس پرحملے بند نہ ہوئے توادویات کے خلاف مزاحمت کرنے والی بیماریوں کا یہ بحران مزید تیزی سے بڑھ جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

