Urdu Conclave 2026

Modi’s ‘silence’ on ‘genocide’ in Gaza: غزہ نسل کشی پر مودی کی گہری خاموشی نے ہندوستان کا اخلاقی وسیاسی وقارمجروح کردیا:کانگریس

ابھی بہت دیر نہیں ہوئی۔ بھارت کو واضح طور پر بات کرنی چاہیے، ذمہ داری سے عمل کرنا چاہیے اور مغربی ایشیا میں کشیدگی کو کم کرنے اور گفت و شنید کی طرف واپسی کے لیے ہر ممکن سفارتی چینل کا استعمال کرنا چاہیے۔

کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی مبینہ “نسل کشی” بغیر کسی روک ٹوک کے جاری ہے اور وزیراعظم نریندر مودی کی اس تباہی پر “گہری” خاموشی، جو فلسطینیوں پر ڈھائی گئی ہے، نے بھارت کے اخلاقی اور سیاسی وقار کو کم کر دیا ہے۔کانگریس کے جنرل سیکریٹری (مواصلات) جئے رام  رمیش نے اپنے ایک ایکس پوسٹ  میں لکھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل جنگ کے حوالے سے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔لیکن غزہ میں ابھی تک کوئی جنگ بندی نہیں ہوئی جہاں اسرائیل کی نسل کشی بلا روک ٹوک جاری ہے۔رمیش نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم مودی کی اس تباہی پر خاموشی، جو گزشتہ اٹھارہ ماہ سے زائد عرصے سے فلسطینیوں پر مسلط ہے، گہری ہے اور اس نے بھارت کے اخلاقی اور سیاسی وقار کو کم کر دیا ہے۔

جئے رام رمیش کا یہ پوسٹ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی کے چند روز قبل دیے گئے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے ہفتے کے روز غزہ اور ایران میں اسرائیل کی تباہی پر بھارت کی خاموشی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اسے “نہ صرف آواز کا نقصان بلکہ اقدار کومجروح کرنا” قرار دیا تھا۔سونیا گاندھی نے اپنے مضمون “ابھی بہت دیر نہیں ہوئی کہ بھارت کی آواز سنی جائے” میں مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ ایک آزاد فلسطین کے تصور پر مبنی بھارت کی دیرینہ اور اصولی وابستگی کو ترک کر دیا ہے، جو ایک پرامن دو ریاستی حل کی حمایت کرتی ہے۔

 انہوں نے اپنے مضمون میں، جو ‘دی ہندو’ میں شائع ہوا، کہا کہ “نئی دہلی کی غزہ کی تباہی اور اب ایران کے خلاف بلا اشتعال جارحیت پر خاموشی ہماری اخلاقی اور سفارتی روایات سے ایک پریشان کن انحراف کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ نہ صرف آواز کا نقصان ہے بلکہ اقدار کو مجروح کرنا بھی ہے۔” انہوں نے زور دیا کہ “ابھی بہت دیر نہیں ہوئی۔ بھارت کو واضح طور پر بات کرنی چاہیے، ذمہ داری سے عمل کرنا چاہیے اور مغربی ایشیا میں کشیدگی کو کم کرنے اور گفت و شنید کی طرف واپسی کے لیے ہر ممکن سفارتی چینل کا استعمال کرنا چاہیے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read