Bharat Express DD Free Dish

Gaza Genocide

رپورٹ بتاتی ہے کہ فلسطینی مسئلے کو ایک بیان بازی کے ہتھیار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جب عوام میں جذبات تیز ہوتے ہیں تو اسے اٹھایا جاتا ہے لیکن اصل اقدامات کبھی نہیں کیے جاتے۔ فوج اسے ’قومی مفاد‘ اور ’اسٹریٹجک توازن‘ کہہ کر درست ٹھہراتی ہے، جبکہ اصل مقصد اپنی طاقت اور فوائد کو محفوظ کرنا ہوتا ہے۔

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس کے فوجیوں نے نصیر اسپتال کے علاقے پر حملہ کیا اور یقین دلایا کہ معاملے کی جانچ جاری ہے۔ فوج نے ایک بیان میں کہا، ’’آئی ڈی ایف غیر ملوث افراد کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتا ہے اور اس طرح صحافیوں کو نشانہ نہیں بناتا ہے۔"

اپریل میں پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد میکرون نے 12 جون کو وزیر اعظم مودی سے فون پر رابطہ کیا تھا، اس دوران انہوں نے کہا تھا کہ فرانس اس مشکل وقت میں ہندوستان اور اس کے شہریوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ فرانس اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔

یہ سروے CGTN کے انگریزی، ہسپانوی، فرانسیسی، عربی اور روسی پلیٹ فارمز پر جاری کیا گیا، جس میں 9,093 افراد نے حصہ لیا اور 24 گھنٹوں کے اندر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

دیگر یورپی ممالک نے بھی اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ برطانیہ نے گزشتہ سال ہتھیاروں کی کچھ برآمدات معطل کر دی تھیں، اور اسپین نے اکتوبر 2023 میں ہتھیاروں کی فروخت روک دی تھی۔ نیدرلینڈز نے ہتھیاروں سے متعلق کنٹرول سخت کر دیے ہیں، جبکہ فرانس اور بیلجیم میں قانونی چیلنجز جاری ہیں۔

ملک کی مختلف ملی تنظیموں کے رہنماؤں نے غزہ میں اسرائیلی فوج کی بربریت، قتل عام، بھکمری اور میڈیکل سہولیات نہیں فراہم کئے جانے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے پوری دنیا کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے بھارت ایکسپریس اردو سے خصوصی بات چیت میں تبادلہ خیال کیا۔

مسلم تنظیموں کے رہنما، مذہبی علماء اورملک کے امن پسند شہری، غزہ میں جاری نسل کشی اور انسانیت سوز بحران کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم 20 کروڑ سے زائد بھارتی مسلمانوں اور وطن عزیز کے تمام امن پسند شہریوں کی جانب سے فلسطینی عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر نے عالمی برادری سے فیصلہ کن اقدام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی نظام کے لیے ایک سخت آزمائش کا وقت ہے۔ ہم تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل سے فوجی اور معاشی تعلقات ختم کریں۔ بنجامن نیتن یاہو کے خلاف آئی سی سی کے وارنٹ کی پاسداری کریں اوراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے ناجائز قبضے کے خاتمے کی قرارداد کی حمایت کریں۔

غزہ میں مقیم لوگوں کا کہنا ہے کہ آٹے جیسی بنیادی چیزیں حاصل کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ وزارت صحت نے بتایا کہ جنگ کے دوران اب تک 71 بچے غذائی قلت سے ہلاک ہو چکے ہیں،

جنگ بندی کے مذاکرات، جو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہو رہے ہیں، اسرائیلی فوج کے انخلا کے حوالے سے تنازعات کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں۔ رائٹرز اور اے ایف پی کے مطابق، حماس نے اسرائیل کی طرف سے پیش کیے گئے انخلا کے نقشوں کو مسترد کر دیا ہے۔