غزہ میں جاری اسرائیلی درندگی کے ختم ہونے کی دعا ہر کوئی کررہا ہے اور خود فلسطینی چیخ چیخ کر دنیا کو یہ آواز دے رہے ہیں کہ انہیں اس جنگ سے نجات دلانے کیلئے کوئی آگے آئے۔قطر جو مسلسل اس مسئلے پر پیش پیش رہا ہے،اب ایک بار پھر جنگ بندی کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے قریب ہے۔ اسی بیچ امریکہ اور اسرائیل دونوں نے جنگ بندی سے متعلق اپنا موقف واضح کردیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے امکان کے بارے میں پر امید ہیں۔خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے صحافیوں کو بتایا کہ مذاکرات گزشتہ دنوں کے مقابلے میں اب زیادہ قریب ہیں۔مارکو روبیو نے ملائیشیا میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے اجلاس کے موقع پر کہا ہےکہ ہم جنگ بندی کے حوالے سے پُرامید ہیں، ایسا لگتا ہے کہ عمومی طور پر فریقین کے درمیان شرائط پر اتفاق ہو چکا ہے، لیکن اب بات چیت ان معاملات پر ہونی ہے کہ ان شرائط پر عملدرآمد کس طرح ممکن ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ شاید ہم پہلے کی نسبت اب زیادہ قریب ہیں اور ہم پر امید بھی ہیں لیکن ہم یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ جنگ بندی کے معاہدے میں اب بھی کچھ چیلنجز موجود ہیں۔
وہیں دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امید ظاہر کی ہے کہ چند دنوں کے اندر حماس کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا سکتا ہے، جس کے تحت مزید اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے غزہ میں جنگ بندی ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ حماس کے قبضے میں اب بھی 50 قیدی موجود ہیں، جن میں سے صرف 20 کے زندہ ہونے کا امکان ہے۔ نیتن یاہو کے مطابق، زیر غور معاہدے کے تحت زندہ اور مردہ قیدیوں میں سے نصف کو واپس لایا جائے گا، جس کے بعد تقریباً 10 زندہ اور 12 مردہ قیدی باقی رہ جائیں گے، لیکن وہ ان سب کی واپسی کے لیے پُرعزم ہیں۔
حالانکہ ایک دن پہلے وزیر اعظم نیتن یاہو نے جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے 60 دنوں کے اندر غزہ پٹی میں جنگ ختم کرنے پر اپنی رضامندی ظاہر کی تھی۔نیتن یاہو نے واشنگٹن میں زیر حراست افراد کے اہل خانہ سے ملاقات کے دوران کہا کہ ہم غزہ میں جنگ بندی کے 60 دنوں کے بعد جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں جنگ کو ختم کرنے اور حماس کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں شامل 60 دن کی جنگ بندی کے بعد تمام زیر حراست افراد کو واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
