Israel-Hamas war: اسرائیل – حماس جنگ میں 74 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک، جنگ بندی کے باوجود غزہ میں تباہی کا سلسلہ جاری
غزہ میں تقریباً تین سال سے جاری جنگ کی وجہ سے بڑا حصہ ملبے میں تبدیل، وزارتِ صحت کے مطابق 74,016 فلسطینی ہلاک اور 1,75,068 زخمی، جنگ بندی کے بعد بھی حملے جاری۔
Israeli forces kill 110 Palestinians: اسرائیل نے غزہ میں تیز کیا قتل عام،سیزفائر کی بات چیت ہورہی ہے ناکام،تازہ حملے میں 110فلسطینی شہید
جنگ بندی کے مذاکرات، جو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہو رہے ہیں، اسرائیلی فوج کے انخلا کے حوالے سے تنازعات کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں۔ رائٹرز اور اے ایف پی کے مطابق، حماس نے اسرائیل کی طرف سے پیش کیے گئے انخلا کے نقشوں کو مسترد کر دیا ہے۔
Israel ready to end war: غزہ میں60 روزہ سیزفائر کے بعد مکمل طور پر جنگ ختم کرنے کیلئے اسرائیل تیار،امریکہ بھی پُرامید
مذاکرات گزشتہ دنوں کے مقابلے میں اب زیادہ قریب ہیں۔مارکو روبیو نے ملائیشیا میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے اجلاس کے موقع پر کہا ہےکہ ہم جنگ بندی کے حوالے سے پُرامید ہیں، ایسا لگتا ہے کہ عمومی طور پر فریقین کے درمیان شرائط پر اتفاق ہو چکا ہے۔
IDF intercepts Gaza Flotilla Madleen: گریٹا تھنبرگ اور ریما حسن امدادی سامان لے کر جا رہی تھیں غزہ، اسرائیل نے جہاز کو روکا اور پھر…
سسلی سے روانہ ہوئے ’دی میڈلین‘ نامی جہاز میں مبینہ طور پر چاول اور بچوں کے فارمولے سمیت انسانی امداد کا سامان لے کر گیا تھا۔ اس مشن کا مقصد غزہ تک مدد پہنچانا اور 2007 سے مسلط اسرائیلی بحری ناکہ بندی کو چیلنج کرنا تھا۔
Israel warns Hamas to accept ceasefire deal: ’’غزہ جنگ بندی معاہدے کو قبول کرو…ورنہ مکمل طور پر کر دیں گے تباہ…‘‘، اسرائیل نے حماس کو دی دھمکی
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور صدر جو ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو جنگ بندی کی تجویز دی ہے جسے اسرائیل نے قبول کر لیا ہے۔
Israel-Gaza Conflict: آپریشن “عربات جدعون” کے تحت پورے غزہ پر کنٹرول حاصل کر لیں گے ، صرف معمولی خوراک اور دوائیں غزہ میں داخل ہوں گی،غزہ کو ملبے میں بدلنے کا اسرائیلی اعلان
ذرائع نے انکشاف کیا کہ خصوصی فورس خواتین کا لباس پہن کر اور پناہ گزینوں کے بیگ اٹھائے ہوئے داخل ہوئی۔ اس نے القسام بریگیڈز کے ایک ذمے دار کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جس کے بارے میں اطلاع ملی تھی کہ وہ ممکنہ طور پر کچھ قیدیوں کے ہمراہ سرنگوں سے باہر نکلا ہے۔ بعد ازاں یہ واضح ہوا کہ وہاں کوئی قیدی موجود نہیں، تو فورس کارروائی کے بعد واپس چلی گئی، جب کہ اس کے نتائج پوری طرح واضح نہیں ہو سکے۔





