Bharat Express DD Free Dish

IDF intercepts Gaza Flotilla Madleen: گریٹا تھنبرگ اور ریما حسن امدادی سامان لے کر جا رہی تھیں غزہ، اسرائیل نے جہاز کو روکا اور پھر…

سسلی سے روانہ ہوئے ’دی میڈلین‘ نامی جہاز میں مبینہ طور پر چاول اور بچوں کے فارمولے سمیت انسانی امداد کا سامان لے کر گیا تھا۔ اس مشن کا مقصد غزہ تک مدد پہنچانا اور 2007 سے مسلط اسرائیلی بحری ناکہ بندی کو چیلنج کرنا تھا۔

گریٹا تھنبرگ کے جہاز کو اسرائیل نے روکا۔

نئی دہلی۔ اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی طرف جا رہی برطانوی جھنڈے والے جہاز ’میڈلین‘ کو روک دیا ہے۔ اس جہاز کو فریڈم فلوٹیلا کولیشن (ایف ایف سی) چلا رہا تھا، جس میں مشہور ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور 11 دیگر انسانی حقوق کے کارکن شامل تھے۔ ان میں یورپی پارلیمنٹ (ایم ای پی) کی رکن ریما حسن بھی شامل ہیں۔ مبینہ طور پر یہ آبی جہاز غزہ پٹی پر اسرائیل کی طویل عرصے سے جاری بحری ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔

’’کارروائی ہونے والی ہے، دیکھتے رہیں‘‘

ریما حسن نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے بحری جہاز کو تقریباً 2 بجے اس وقت روکا جب وہ بین الاقوامی پانیوں کے حدود میں موجود تھا۔ ریما حسن نے ‘X’ پر لکھا، ’’فریڈم فلوٹیلا کے عملے کو اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی پانیوں میں صبح 2 بجے کے قریب گرفتار کر لیا، کارروائی ہونے والی ہے، دیکھتے رہیں۔‘‘

کارکنوں کا اسرائیلی فورسز پر ’اغوا‘ کا الزام

حسن نے ایک تصویر شیئر کی جس میں لائف جیکٹس پہنے ہوئے لوگ ہاتھ اٹھا کر بیٹھے نظر آ رہے ہیں۔ اس تصویر کو دیکھ کر لگتا ہے کہ انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔ ایف ایف سی نے ٹیلی گرام کے ذریعے تصدیق کی ہے کہ میڈلین سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کارکنوں نے اسرائیلی فورسز پر ’اغوا‘ کا الزام بھی لگایا ہے۔

سویڈش حکومت سے کارکنوں کی رہائی کی اپیل

اس دوران، گریٹا تھنبرگ نے ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی جس میں سویڈش حکومت سے کارکنوں کی رہائی کی اپیل کی گئی۔ گریٹا تھنبرگ نے ویڈیو پیغام میں کہا، ’’اسرائیلی قابض افواج یا اسرائیل کی حمایت کرنے والی فورسز نے ہمیں بین الاقوامی پانیوں میں روک کر اغوا کر لیا، میں اپنے تمام دوستوں، خاندان اور ساتھیوں سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ سویڈش حکومت پر مجھے اور دیگر کو جلد از جلد رہا کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔‘‘

سسلی سے روانہ ہوئے ’دی میڈلین‘ نامی جہاز میں مبینہ طور پر چاول اور بچوں کے فارمولے سمیت انسانی امداد کا سامان لے کر گیا تھا۔ اس مشن کا مقصد غزہ تک مدد پہنچانا اور 2007 سے مسلط اسرائیلی بحری ناکہ بندی کو چیلنج کرنا تھا۔

اسرائیل نے اسے ایک ’سلیبریٹیز سیلفی بوٹ‘ کہا

اسرائیل کی وزارت خارجہ نے اسے ایک ’سلیبریٹیز سیلفی بوٹ‘ کے طور پر بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کارکن میڈیا اسٹنٹ کر رہے تھے۔ وزارت نے X پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’گریٹا اور دیگر نے میڈیا کی توجہ مبذول کرنے کی کوشش کی۔ پچھلے دو ہفتوں میں 1,200 سے زیادہ امدادی ٹرک اسرائیل سے غزہ میں داخل ہوئے ہیں۔‘‘ وزارت نے کہا، ’’غزہ پٹی تک امداد پہنچانے کے طریقے موجود ہیں، اور اس میں انسٹاگرام سیلفیز شامل نہیں ہیں۔‘‘

یہ واقعہ FFC کی دوسری ناکام کوشش

یہ واقعہ FFC کی حالیہ مہینوں میں غزہ پہنچنے کی دوسری ناکام کوشش ہے۔ مئی کے اوائل میں، گروپ کے جہاز ’کانشیس‘ کو مالٹا کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں ایک مبینہ ڈرون حملے میں تباہ کر دیا گیا تھا، جس کا الزام FFC نے اسرائیل پر لگایا تھا۔ حالانکہ، اسرائیلی حکومت نے اس واقعے میں اپنے ملوث ہونے کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید کی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read