Bharat Express DD Free Dish

Gaza Strip

قطر ایک بار پھر خود کو ایک فعال ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے، جو نہ صرف غزہ میں امن اور انسانی امداد کے لیے کام کر رہا ہے بلکہ عالمی بحرانوں میں بھی مکالمے اور سفارت کاری کے راستے کو آگے بڑھا رہا ہے۔

جنوری میں اسرائیل اور حماس نے یرغمالیوں کے لیے تین مرحلوں میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ حالانکہ، مذاکرات کا دوسرا دور چھ ہفتے کا پہلا مرحلہ یکم مارچ کو ختم ہونے کے بعد تعطل کا شکار ہو گیا۔ اس کے بعد اسرائیل نے جنگ بندی کے تعطل کے درمیان 18 مارچ کو غزہ میں پھر سے فوجی آپریشن شروع کر دیا۔

مشاورت کے باوجود اسرائیلی فوج نے شمال اور جنوب میں بفر زون قائم کرنے کے منصوبوں کے درمیان بہت سے علاقوں کو خالی کرا لیا ہے اور غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہے

فلسطین پر لگاتار اسرائیلی بمباری کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کے روز ہتھیار ڈالنے کی شرط پر حماس کے لیڈران کو غزہ کی پٹی سے نکلنے دینے کی پیش کش کی ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے دھمکی دی ہے کہ غزہ کے کچھ حصوں کو اسرائیل میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف غزہ میں دوبارہ جنگ شروع کرنے پر اسرائیلی عوام وزیر اعظم  بنجامن نیتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنرل سیکورٹی کے ادارے کے سربراہ رشید جحجوح کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔ غزہ میں شہری دفاع نے جمعرات کے روز بتایا کہ منگل کی صبح سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 504 افراد شہید ہو چکے ہیں۔

جورڈن نے اس نقشے کو اسرائیل کی توسیع پسندانہ منصوبے کا حصہ بتایا ہے۔ عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے اسے اکسانے کی کارروائی قرار دیا ہے ۔ انہوں نےخبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے قدم  انتہا پسندی کو بڑھاوا دے سکتے ہیں۔

غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے الزام لگایا کہ اسرائیلی فورسز نے رات کے دوران ’’دو وحشیانہ قتل عام‘‘ کا ارتکاب کرتے ہوئے ایک مسجد اور ایک اسکول کی پناہ گاہ پر بمباری کی اور کم از کم 24 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ وہیں، ٹیلی گرام پر بتایا گیا کہ وسطی غزہ میں ہونے والے حملوں میں تقریباً 93 دیگر زخمی ہو گئے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کی فضائیہ نے غزہ شہر میں ’ابن الہیثم‘ اسکول کے نام سے مشہور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر پر حماس کے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا۔

مصری سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی وفود نے قاہرہ میں ملاقاتوں کا نیا دور شروع کیا، جس کا مقصد غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع کو ختم کرنا اور جنگ بندی کی تجویز پر اختلافات کو دور کرنا ہے۔