Bharat Express DD Free Dish

Iran-US-Israel Conflict: ایران-اسرائیل جنگ سے عالمی معیشت پر خطرے کے بادل، کیا 2027 تک مہنگائی اور کساد بازاری کا نیا طوفان آئے گا، جانئے ورلڈ بینک نے کیا وارننگ دی؟

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق فروری 2026 کے آخر میں شروع ہونے والی کشیدگی اب 100 دن سے زیادہ کا عرصہ طے کر چکی ہے۔ اگرچہ مختلف مواقع پر جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی امیدیں پیدا ہوئیں، تاہم ایران اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

نیویارک/واشنگٹن، 8 جون: ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور فوجی تصادم نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں اور اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ تنازعہ مزید طول پکڑتا ہے تو آنے والے برسوں میں دنیا کو مہنگائی، تجارتی رکاوٹوں اور اقتصادی سست روی کے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق فروری 2026 کے آخر میں شروع ہونے والی کشیدگی اب 100 دن سے زیادہ کا عرصہ طے کر چکی ہے۔ اگرچہ مختلف مواقع پر جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی امیدیں پیدا ہوئیں، تاہم ایران اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

عالمی بینک اور اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) نے اپنی حالیہ رپورٹس میں خبردار کیا ہے کہ جنگ کے طویل ہونے کی صورت میں عالمی معیشت پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔ رپورٹوں کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافے، تجارتی راستوں میں رکاوٹوں اور سپلائی چین کے مسائل کے باعث دنیا بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سپلائی چین اس وقت دباؤ کا شکار ہے۔ شپنگ اور لاجسٹکس سے متعلق اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مختلف سمندری راستوں پر تاخیر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مئی 2026 تک تاخیر کا شکار شپنگ صلاحیت 2.06 ملین ٹی ای یو تک پہنچ چکی ہے، جو کورونا وبا کے بعد پیدا ہونے والی بڑی تجارتی رکاوٹوں کے قریب سمجھی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے بھی بڑھتے ہوئے اخراجات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ صنعت سے وابستہ اداروں کا کہنا ہے کہ ایندھن کی بلند قیمتوں، بحری انشورنس کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی تجارت مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ اس کا براہ راست اثر درآمد و برآمد پر منحصر کمپنیوں اور صارفین دونوں پر پڑ سکتا ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق جب مال برداری کے اخراجات بڑھتے ہیں تو خام مال سے لے کر تیار مصنوعات تک ہر چیز کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ کمپنیاں اضافی بوجھ صارفین تک منتقل کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں مہنگائی بڑھتی ہے اور عام شہریوں کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے۔

او ای سی ڈی کی اقتصادی پیش گوئی کے مطابق عالمی معیشت 2026 میں تقریباً 2.8 فیصد اور 2027 میں 3.1 فیصد کی شرح سے ترقی کر سکتی ہے، تاہم ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعہ طویل عرصے تک برقرار رہا تو یہ شرح نمو مزید کم ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف تیل کی قیمتیں ہی نہیں بلکہ توانائی کے مجموعی اخراجات، سمندری نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے خرچ اور مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال عالمی اقتصادی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر جنگ 2027 تک جاری رہی تو توانائی، خوراک اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں، جس سے دنیا کے کئی ممالک میں مہنگائی اور معاشی سست روی کے خدشات مزید گہرے ہو جائیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read