Bharat Express DD Free Dish

Iran US Israel Conflict

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکہ نے ایران کے 12 شہروں میں واقع 140 مقامات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی فوجی اڈوں اور خلیجی ممالک میں موجود اہداف پر حملے کیے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق فروری 2026 کے آخر میں شروع ہونے والی کشیدگی اب 100 دن سے زیادہ کا عرصہ طے کر چکی ہے۔ اگرچہ مختلف مواقع پر جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی امیدیں پیدا ہوئیں، تاہم ایران اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر مختصر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور ایران کو "فوراً فائرنگ بند" کر دینی چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔

واقعے کے بعد کویت میں بھارتی سفارت خانے نے وہاں مقیم بھارتی شہریوں کے لیے ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔ سفارت خانے نے تمام بھارتیوں کو چوکس رہنے، مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نئی دہلی میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران پٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 7.35 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے بعد دارالحکومت میں پٹرول کی قیمت 94.77 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 102.12 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ اس عرصے کے دوران حکومت کی جانب سے چار مختلف مراحل میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے 28 فروری کو شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد اب تک کم از کم 24 ریپر ڈرون مار گرائے یا تباہ کر دیے ہیں۔ ان ڈرونز کی مجموعی مالیت تقریباً ایک ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ اس پیش رفت کو بھارت کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ بھارت نے حال ہی میں امریکہ سے 31 ایم کیو-9بی پریڈیٹر ڈرون خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔

یونیسیف کی تازہ رپورٹ کے مطابق مسلسل حملوں، بے گھری، خوف اور غیر یقینی صورتحال کے باعث تقریباً سات لاکھ ستر ہزار بچے ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے اثرات مستقبل میں بھی ان کی زندگیوں پر نمایاں طور پر پڑ سکتے ہیں۔

بھارتی ریزرو بینک (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترا نے مزید کہا کہ اگر موجودہ عالمی بحران میں شدت آتی ہے اور حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو حکومت کے لیے ایندھن کی قیمتوں کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق اگر کشیدگی لمبے عرصے تک برقرار رہی تو تیل کمپنیاں جلد ہی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے اتوار 10 مئی 2026 کو حیدرآباد میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”حب الوطنی صرف سرحد پر لڑنے کا نام نہیں، بلکہ مشکل وقت میں ملک کی معیشت کو سہارا دینا بھی قوم پرستی کا اہم حصہ ہے“۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک کے مفاد میں ایندھن کی بچت کریں اور سونے کی خریداری محدود کریں تاکہ بھارت پر بڑھتے درآمدی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

پدم ایوارڈ یافتہ صنعت کار ششی سونی نے کہا کہ دنیا بھر میں بدلتے حالات، جنگوں، معاشی غیر یقینی اور قدرتی آفات کے تناظر میں بھارت کو مضبوط اور خود کفیل بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعظم مودی نے عوام سے جو اپیل کی ہے، اس کا مقصد لوگوں میں گھبراہٹ پیدا کرنا نہیں بلکہ اجتماعی شعور بیدار کرنا ہے تاکہ اگر مستقبل میں کوئی بڑا بحران پیدا ہو تو ملک اس کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکے۔