Bharat Express DD Free Dish

Iran US Israel Conflict

فاروق عبداللہ نے کہا کہ صرف آن لائن نظام یا وقتی اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ حکومت کو مضبوط معاشی حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر جاری تنازعات کا براہ راست اثر بھارت کی معیشت، تجارت اور عوامی زندگی پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی بند نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا کہ ”ہم جلد اپنی جیت کا جشن منائیں گے اور وہ تمام پابندیاں اور دباؤ ختم ہو جائیں گے جو برسوں سے ہمارے ملک پر مسلط ہیں“۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اپنی معیشت کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں اصلاحات کر رہا ہے اور قومی سطح پر خود انحصاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر دونوں ممالک کے درمیان ایک باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔ سفارتی حلقوں میں اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے اسدی نے الزام لگایا کہ امریکہ کی جانب سے دیے جانے والے بیانات میڈیا حکمت عملی کے تحت ہوتے ہیں، جن کا مقصد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کو روکنا اور موجودہ اقتصادی دباؤ سے نکلنا ہے۔

وزارت خارجہ میں خلیجی امور کے اضافی سکریٹری عاصم آر مہاجن نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرون ملک مقیم بھارتی برادری کی سلامتی اور فلاح حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایک خصوصی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جہاں 24 گھنٹے ہیلپ لائن خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ایرانی حکام کے اس سخت موقف نے جاری جوہری مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بیان سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی عمل متاثر ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی تعطل کا شکار ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ مسلسل دباؤ کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور اس کے مطالبات یکطرفہ ہیں، جن کا مقصد ایران کی خودمختاری کو محدود کرنا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ”نیوکلیئر ڈسٹ“ یعنی افزودہ یورینیم فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ یہ مواد ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی رہی ہے۔ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو سفارتی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ اس سے خطے میں امن کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔

امریکہ نے واضح کیا ہے کہ لبنان اس سے قبل ہونے والی کسی ممکنہ مفاہمت کا حصہ نہیں تھا۔ امریکی قیادت کے مطابق اس حوالے سے پیدا ہونے والی کچھ غلط فہمیاں دور کر دی گئی ہیں اور موجودہ جنگ بندی ایک الگ پیش رفت ہے، جسے خطے میں امن کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

ڈیموکریٹ اراکین نے وزیر دفاع پر پانچ بڑے الزامات عائد کیے ہیں۔ رکن کانگریس یاسمین انصاری کی جانب سے پیش کیے گئے سات صفحات پر مشتمل مواخذہ مسودے پر آٹھ دیگر ارکان نے بھی دستخط کیے ہیں۔ ان الزامات میں سب سے اہم یہ ہے کہ وزیر دفاع نے کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف جنگی کارروائی شروع کی۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 13 اپریل کو پیش آیا جب چینی کارگو جہاز، جس پر بھاری مقدار میں میتھانول لدا ہوا تھا، آبنائے ہرمز سے گزر کر بحیرہ عمان میں داخل ہو گیا۔ حیران کن طور پر یہ وہی ٹینکر ہے جس پر امریکہ برسوں قبل پابندی عائد کر چکا تھا، اس کے باوجود یہ جہاز ایرانی حدود سے گزرتے ہوئے بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ گیا۔