Dr Farooq Abdullah Reaction: ”اللہ ہی جانتا ہے کہ ہماری کیا حالت ہوگی…“، امریکہ-ایران کشیدگی پر فاروق عبداللہ کا اظہار تشویش
فاروق عبداللہ نے کہا کہ صرف آن لائن نظام یا وقتی اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ حکومت کو مضبوط معاشی حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر جاری تنازعات کا براہ راست اثر بھارت کی معیشت، تجارت اور عوامی زندگی پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی بند نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
Iran vs US-Israel Conflict: ایران پر برسوں سے عائد اقتصادی اور سیاسی پابندیاں جلد ختم ہوں گی، ملک میں تعمیر نو کا عمل تیزی سے جاری: نائب صدر محمد رضا عارف
ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا کہ ”ہم جلد اپنی جیت کا جشن منائیں گے اور وہ تمام پابندیاں اور دباؤ ختم ہو جائیں گے جو برسوں سے ہمارے ملک پر مسلط ہیں“۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اپنی معیشت کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں اصلاحات کر رہا ہے اور قومی سطح پر خود انحصاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
Iran-US Deal Final: ایران اور امریکہ کے درمیان اہم پیش رفت، تین نکات پر اتفاق، جنگ کے خاتمے کا اعلان جلد متوقع
ذرائع کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر دونوں ممالک کے درمیان ایک باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔ سفارتی حلقوں میں اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
Iran US Conflict: ایران کی امریکہ کو سخت وارننگ، جنگی کشیدگی کے درمیان فوج ہر قدم کے لیے تیار
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے اسدی نے الزام لگایا کہ امریکہ کی جانب سے دیے جانے والے بیانات میڈیا حکمت عملی کے تحت ہوتے ہیں، جن کا مقصد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کو روکنا اور موجودہ اقتصادی دباؤ سے نکلنا ہے۔
Indian Seafarers Safe: مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باوجود بھارتی جہاز محفوظ، 24 گھنٹوں میں کسی پر فائرنگ نہیں ہوئی: وزارت خارجہ
وزارت خارجہ میں خلیجی امور کے اضافی سکریٹری عاصم آر مہاجن نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرون ملک مقیم بھارتی برادری کی سلامتی اور فلاح حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایک خصوصی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جہاں 24 گھنٹے ہیلپ لائن خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔
Iran vs US-Israel Conflict: ”ایک گرام یورینیم بھی نہیں دیں گے!“ امریکہ کے مطالبے پر ایران کا دوٹوک جواب، کشیدگی میں اضافہ
ایرانی حکام کے اس سخت موقف نے جاری جوہری مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بیان سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی عمل متاثر ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی تعطل کا شکار ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ مسلسل دباؤ کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور اس کے مطالبات یکطرفہ ہیں، جن کا مقصد ایران کی خودمختاری کو محدود کرنا ہے۔
Iran Agrees To Hand Over Nuclear Dust—Trump: ٹرمپ کا بڑا دعویٰ: ایران یورینیم حوالے کرنے پر آمادہ، امریکہ-ایران مذاکرات اہم مرحلے میں داخل
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ”نیوکلیئر ڈسٹ“ یعنی افزودہ یورینیم فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ یہ مواد ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی رہی ہے۔ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو سفارتی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ اس سے خطے میں امن کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔
Israel-Lebanon Ceasefire: اسرائیل-لبنان جنگ بندی کا عالمی سطح پر خیر مقدم، خلیجی ممالک نے خلاف ورزی سے بچنے پر دیا زور
امریکہ نے واضح کیا ہے کہ لبنان اس سے قبل ہونے والی کسی ممکنہ مفاہمت کا حصہ نہیں تھا۔ امریکی قیادت کے مطابق اس حوالے سے پیدا ہونے والی کچھ غلط فہمیاں دور کر دی گئی ہیں اور موجودہ جنگ بندی ایک الگ پیش رفت ہے، جسے خطے میں امن کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
Impeachment Against Defense Secretary Pete Hegseth: امریکی وزیر دفاع کے خلاف مواخذے کی تیاری، ایران جنگ کے درمیان مشکلات میں اضافہ
ڈیموکریٹ اراکین نے وزیر دفاع پر پانچ بڑے الزامات عائد کیے ہیں۔ رکن کانگریس یاسمین انصاری کی جانب سے پیش کیے گئے سات صفحات پر مشتمل مواخذہ مسودے پر آٹھ دیگر ارکان نے بھی دستخط کیے ہیں۔ ان الزامات میں سب سے اہم یہ ہے کہ وزیر دفاع نے کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف جنگی کارروائی شروع کی۔
Iran vs US-Israel War: آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی ناکام؟ پابندیوں کے باوجود چینی ٹینکر بحفاظت گزرنے میں کامیاب، عالمی سیاست میں نئی ہلچل
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 13 اپریل کو پیش آیا جب چینی کارگو جہاز، جس پر بھاری مقدار میں میتھانول لدا ہوا تھا، آبنائے ہرمز سے گزر کر بحیرہ عمان میں داخل ہو گیا۔ حیران کن طور پر یہ وہی ٹینکر ہے جس پر امریکہ برسوں قبل پابندی عائد کر چکا تھا، اس کے باوجود یہ جہاز ایرانی حدود سے گزرتے ہوئے بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ گیا۔





