ایران امریکہ کشیدگی (اے آئی تصویر)
تہران/واشنگٹن: مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران اور امریکہ کے تعلقات ایک بار پھر تناؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔ ایران نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے افزودہ یورینیم کا ایک گرام بھی امریکہ یا کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کرے گا۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے امریکہ کے مطالبات کو ”غیر معقول“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران انہیں کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرے گا۔ ایرانی حکام کے اس سخت موقف نے جاری جوہری مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بیان سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی عمل متاثر ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی تعطل کا شکار ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ مسلسل دباؤ کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور اس کے مطالبات یکطرفہ ہیں، جن کا مقصد ایران کی خودمختاری کو محدود کرنا ہے۔ ایران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ کی ”زیادہ سے زیادہ دباؤ“ کی حکمت عملی کا جواب اسی انداز میں دے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر امریکہ پابندیاں عائد کرتا ہے تو ایران بھی اسی زبان میں جواب دے گا۔ ان کے مطابق تہران اب دفاعی کے بجائے جارحانہ سفارتی پالیسی اپنائے گا تاکہ اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب ایران نے حالیہ کشیدگی کے دوران ہونے والے نقصانات کے اعداد و شمار بھی جاری کیے ہیں۔ فاؤنڈیشن آف مارٹرز کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں میں اب تک کم از کم 3 ہزار 468 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کے باوجود اس کی میزائل اور فضائی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کی کوششیں ناکام رہی ہیں۔ یہ تنازعہ اب صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہا بلکہ علاقائی سطح پر بھی اس کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ ایران نے جنگ بندی کی کسی بھی ممکنہ شرائط میں لبنان اور حزب اللہ کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے اور خطے میں عدم استحکام کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ادھر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند کر کے امریکہ کو بلیک میل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی کے اختتام سے قبل کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ اسے ختم کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اسرائیل کو امریکہ کا قریبی اتحادی قرار دیتے ہوئے اشارہ دیا کہ اس تنازعہ کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ جب تک جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی اور پائیدار امن قائم نہیں ہوتا، تب تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ایران کا کنٹرول برقرار رہے گا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی کے جواب میں ایران نے اس اہم سمندری راستے پر اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔
سفارتی سطح پر بھی صورتحال جمود کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کے لیے ابھی تک کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک طرف کشیدگی اور ممکنہ جھڑپیں جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب مذاکرات کا عمل بھی تعطل کا شکار ہے۔ ایرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں کسی بھی فریق کی جانب سے سخت موقف میں نرمی کے بغیر پیش رفت ممکن نہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر تیل کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

