Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel War

ایرانی عدلیہ کے مطابق حسین پدران نے اصفہان میں فوجی اور میزائل تنصیبات سے متعلق حساس معلومات موساد کو فراہم کی تھیں، سپریم کورٹ نے سزائے موت برقرار رکھی

ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے امریکی فوجی کو ہلاک یا گرفتار کرنے والے شخص کے لیے 30 ہزار ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔ اگر یہ کارروائی کسی ایرانی خاتون کی جانب سے کی جاتی ہے تو انعام کی رقم دوگنی یعنی 60 ہزار ڈالر ہوگی۔

ایران آبنائے ہرمز سے امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کے لیے نیا قانون لانے کی تیاری کر رہا ہے۔ مجوزہ بل، جرمانوں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ردِعمل اور اس کے عالمی اثرات کے بارے میں جانیے مکمل تفصیل۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق فروری 2026 کے آخر میں شروع ہونے والی کشیدگی اب 100 دن سے زیادہ کا عرصہ طے کر چکی ہے۔ اگرچہ مختلف مواقع پر جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی امیدیں پیدا ہوئیں، تاہم ایران اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر مختصر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور ایران کو "فوراً فائرنگ بند" کر دینی چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔

اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے ترجمان ایفی ڈیفرین نے ایران کی کارروائی کو "بہت بڑی غلطی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج ہر ممکنہ حملے کا جواب دینے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فوجی سربراہ ایال ضمیر مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور آئندہ اقدامات سے متعلق منصوبوں کی منظوری دے رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے 28 فروری کو شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد اب تک کم از کم 24 ریپر ڈرون مار گرائے یا تباہ کر دیے ہیں۔ ان ڈرونز کی مجموعی مالیت تقریباً ایک ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ اس پیش رفت کو بھارت کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ بھارت نے حال ہی میں امریکہ سے 31 ایم کیو-9بی پریڈیٹر ڈرون خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کو لے کر معمہ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ زندہ ہیں، لیکن ان کی اصل حالت اور طاقت پر اب بھی پردہ پڑا ہوا ہے۔

ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا کہ ”ہم جلد اپنی جیت کا جشن منائیں گے اور وہ تمام پابندیاں اور دباؤ ختم ہو جائیں گے جو برسوں سے ہمارے ملک پر مسلط ہیں“۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اپنی معیشت کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں اصلاحات کر رہا ہے اور قومی سطح پر خود انحصاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کے سیزفائر کے بعد ایک بار پھر کشیدگی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ دونوں جانب سے آبنائے ہرمز میں حملوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ اسی دوران ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی عوام جلد ہی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اس لڑائی میں بڑی فتح کا جشن منائیں گے۔