Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel War

ذرائع کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر دونوں ممالک کے درمیان ایک باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔ سفارتی حلقوں میں اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب وزیر توانائی کرس رائٹ نے قیمتوں میں اضافے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے حکومتی موقف کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ قیمتیں بڑھی ہیں، لیکن یہ چار سال پہلے کے مقابلے میں اب بھی کم ہیں۔

نئے وزیر اعظم کے حالیہ بیان سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ ہنگری کی نئی حکومت بین الاقوامی قوانین کی پابندی پر زور دے رہی ہے، چاہے اس کے نتیجے میں عالمی سطح کے طاقتورلیڈروں کے خلاف کارروائی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔

ایرانی حکام کے اس سخت موقف نے جاری جوہری مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بیان سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی عمل متاثر ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی تعطل کا شکار ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ مسلسل دباؤ کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور اس کے مطالبات یکطرفہ ہیں، جن کا مقصد ایران کی خودمختاری کو محدود کرنا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی)  کی گن بوٹس نے دو بھارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں آئل ٹینکر "سنمار ہیرالڈ" اور بلک کیریئر "جگ ارناو" شامل ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں جہاز ہرمز آبنائے عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ”نیوکلیئر ڈسٹ“ یعنی افزودہ یورینیم فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ یہ مواد ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی رہی ہے۔ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو سفارتی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ اس سے خطے میں امن کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔

فرانس کے صدر ایمینول میکرون  نے بھی جنگ بندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کا مکمل خیر مقدم کرتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خدشہ ظاہر کیا کہ اگر فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو یہ معاہدہ کمزور ہو سکتا ہے۔

امریکہ نے واضح کیا ہے کہ لبنان اس سے قبل ہونے والی کسی ممکنہ مفاہمت کا حصہ نہیں تھا۔ امریکی قیادت کے مطابق اس حوالے سے پیدا ہونے والی کچھ غلط فہمیاں دور کر دی گئی ہیں اور موجودہ جنگ بندی ایک الگ پیش رفت ہے، جسے خطے میں امن کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

جنگ سے قبل عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی نسبتاً مستحکم تھی اور قیمتیں بھی قابو میں تھیں، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں تیزی سے جاری تھیں اور معیشت ترقی کر رہی تھی۔ تاہم موجودہ صورتحال نے اس توازن کو بگاڑ دیا ہے اور عالمی منڈی میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اب وہ حالات دوبارہ بحال کرنا آسان نہیں رہے۔

ڈیموکریٹ اراکین نے وزیر دفاع پر پانچ بڑے الزامات عائد کیے ہیں۔ رکن کانگریس یاسمین انصاری کی جانب سے پیش کیے گئے سات صفحات پر مشتمل مواخذہ مسودے پر آٹھ دیگر ارکان نے بھی دستخط کیے ہیں۔ ان الزامات میں سب سے اہم یہ ہے کہ وزیر دفاع نے کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف جنگی کارروائی شروع کی۔