Bharat Express DD Free Dish

Iran Agrees To Hand Over Nuclear Dust—Trump: ٹرمپ کا بڑا دعویٰ: ایران یورینیم حوالے کرنے پر آمادہ، امریکہ-ایران مذاکرات اہم مرحلے میں داخل

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ”نیوکلیئر ڈسٹ“ یعنی افزودہ یورینیم فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ یہ مواد ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی رہی ہے۔ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو سفارتی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ اس سے خطے میں امن کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔

واشنگٹن/تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر حوالے کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے، جس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ایک ممکنہ معاہدہ اب قریب دکھائی دے رہا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ”نیوکلیئر ڈسٹ“ یعنی افزودہ یورینیم فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ یہ مواد ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی رہی ہے۔ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو سفارتی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ اس سے خطے میں امن کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ویک اینڈ پر متوقع ہے۔ ٹرمپ نے موجودہ جنگ بندی کو بڑھانے کی ضرورت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایران کا رویہ پہلے کے مقابلے میں نرم ہوا ہے، جس سے مثبت نتائج کی امید کی جا سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ امریکی صدر نے حیران کن طور پر یہ بھی کہا کہ اس وقت امریکہ اور ایران کے تعلقات بہتر سمت میں جا رہے ہیں، حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان ماضی میں شدید اختلافات رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہونے والی سخت فوجی کارروائیوں اور اقتصادی دباؤ کا نتیجہ ہے، جس نے ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا۔

یاد رہے کہ ایران کا جوہری پروگرام طویل عرصے سے عالمی سیاست کا ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ امریکہ اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ ایران اپنی جوہری سرگرمیوں کو طویل مدت کے لیے محدود کرے، جبکہ ایران ہمیشہ محدود مدت کے لیے پابندیوں پر آمادہ رہا ہے۔ اس اختلاف نے ماضی میں کئی مذاکرات کو ناکام بنایا۔ ذرائع کے مطابق واشنگٹن مسلسل ایران سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرے یا انہیں ملک سے باہر منتقل کرے۔ دوسری جانب ایران بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق تہران اب جزوی طور پر یورینیم بیرون ملک بھیجنے پر غور کر رہا ہے، جو اس سے پہلے مکمل طور پر مسترد کیا جا چکا تھا۔

ٹرمپ نے موجودہ جنگ بندی کی نازک صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ معاہدہ آئندہ ہفتے ختم ہونے والا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو لڑائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں کوئی اہم معاہدہ طے پایا تو وہ خود وہاں موجود ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فوجی قیادت کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے مذاکرات میں اہم پیش رفت قرار دیا۔

علاوہ ازیں، ٹرمپ نے عالمی سطح پر جوہری خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کے مطابق اگر ایسا ہوا تو یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہوگا۔ مجموعی طور پر ٹرمپ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ تاہم اختلافات اب بھی موجود ہیں اور آنے والے دنوں میں ہونے والی بات چیت سے ہی واضح ہوگا کہ یہ کشیدگی مستقل طور پر ختم ہوگی یا ایک بار پھر شدت اختیار کرے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read