Bharat Express DD Free Dish

Israel-Lebanon Conflict: لبنان تشدد سے 7.7 لاکھ بچے ذہنی دباؤ کا شکار، یونیسیف نے عالمی توجہ کی اپیل کر دی

یونیسیف کی تازہ رپورٹ کے مطابق مسلسل حملوں، بے گھری، خوف اور غیر یقینی صورتحال کے باعث تقریباً سات لاکھ ستر ہزار بچے ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے اثرات مستقبل میں بھی ان کی زندگیوں پر نمایاں طور پر پڑ سکتے ہیں۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے لبنان میں جاری تشدد اور بڑھتے ہوئے انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں لاکھوں بچے سنگین ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل سے دوچار ہو رہے ہیں۔ ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق مسلسل حملوں، بے گھری، خوف اور غیر یقینی صورتحال کے باعث تقریباً سات لاکھ ستر ہزار بچے ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے اثرات مستقبل میں بھی ان کی زندگیوں پر نمایاں طور پر پڑ سکتے ہیں۔ یونیسیف کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ 17 اپریل 2026 کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود حالات میں مکمل بہتری نہیں آ سکی۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور بچوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں درجنوں بچے تشدد کی براہ راست زد میں آئے ہیں، جس سے انسانی صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے۔

لبنان کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی بچوں کی جانوں کا ضیاع جاری رہا۔ متعدد بچوں کی ہلاکت اور بڑی تعداد میں زخمی ہونے کے واقعات نے صورتحال کی سنگینی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ مسلسل بڑھتے ہوئے اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تنازعہ کا سب سے زیادہ اثر کم عمر بچوں پر پڑ رہا ہے، جو نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی اور جذباتی سطح پر بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بچے اپنے اہل خانہ سے بچھڑنے، گھروں کی تباہی، مسلسل نقل مکانی اور خوف کے ماحول کا سامنا کر رہے ہیں۔ کئی خاندان متعدد مرتبہ اپنے علاقوں سے بے دخل ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں بچوں کی روزمرہ زندگی مکمل طور پر متاثر ہوئی ہے۔ تعلیم کا نظام بھی شدید دباؤ میں ہے اور کئی تعلیمی ادارے عارضی پناہ گاہوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

ادارے نے اپنی سابقہ جائزہ رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل عسکری کشیدگی نے بچوں کے ذہنی استحکام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ متعدد نگہداشت فراہم کرنے والوں نے بتایا کہ بچے پہلے کے مقابلے میں زیادہ خوفزدہ، خاموش اور سماجی سرگرمیوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر کم عمری میں پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ تعلیمی کارکردگی، سماجی تعلقات اور مجموعی شخصیت کی نشوونما پر طویل مدتی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں اور سماجی اعتماد بھی متاثر ہوگا۔

یونیسیف کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے علاقائی ڈائریکٹر ایڈوارڈ بیگ بیڈر نے کہا کہ اگر متاثرہ بچوں کو فوری نفسیاتی اور سماجی مدد فراہم نہ کی گئی تو اس بحران کے ذہنی زخم کئی برسوں تک ان کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ صرف بچوں کی موجودہ زندگی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ لبنان کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بچوں اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے افراد میں شدید خوف، بے چینی، ڈراؤنے خواب، نیند کی کمی اور مستقبل سے مایوسی جیسے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ یونیسیف نے عالمی برادری سے فوری انسانی امداد، نفسیاتی سہولتوں اور محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ لبنان کے بچوں کو ایک بہتر اور محفوظ مستقبل آنے والے برسوں میں بھی دیا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read