Bharat Express DD Free Dish

Lebanon Conflict

لبنان کی سرکاری میڈیا نے جانکاری دی ہے کہ منگل کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کم ازکم چارلوگوں کی موت ہوئی۔ حملہ اس وقت ہوا، جب امریکہ اورایران کے درمیان معاہدہ پراتفاق رائے ہوا اوراعلان کیا گیا تھا۔

یونیسیف کی تازہ رپورٹ کے مطابق مسلسل حملوں، بے گھری، خوف اور غیر یقینی صورتحال کے باعث تقریباً سات لاکھ ستر ہزار بچے ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے اثرات مستقبل میں بھی ان کی زندگیوں پر نمایاں طور پر پڑ سکتے ہیں۔

آئی ڈی ایف کے بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں تقریباً 70 فوجی ڈھانچوں اور 50 سے زائد ایسے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا جو حزب اللہ سے وابستہ تھے۔ ان میں کمانڈ سینٹرز، اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مراکز، فوجی عمارتیں اور دیگر تنصیبات شامل تھیں۔

رپورٹس کے مطابق ابتدائی اسرائیلی حملہ جنوبی لبنان کے ایک گاؤں التیری میں ایک گاڑی پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں اس میں سوار دو افراد ہلاک ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر حزب اللہ کے زیر استعمال ایک عسکری ڈھانچے سے نکلی تھیں۔

امریکہ نے واضح کیا ہے کہ لبنان اس سے قبل ہونے والی کسی ممکنہ مفاہمت کا حصہ نہیں تھا۔ امریکی قیادت کے مطابق اس حوالے سے پیدا ہونے والی کچھ غلط فہمیاں دور کر دی گئی ہیں اور موجودہ جنگ بندی ایک الگ پیش رفت ہے، جسے خطے میں امن کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل کے سرحدی علاقوں میں قریبی فاصلے سے جھڑپیں بھی رپورٹ کی گئی ہیں، جس سے دونوں جانب صورتحال نہایت کشیدہ ہو گئی ہے۔ ادھر بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف ہدفی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی محدود نوعیت کی ہے اور اس کا اطلاق لبنان میں سرگرم تنظیم حزب اللہ پر نہیں ہوتا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق حزب اللہ ایک علیحدہ اور سنگین خطرہ ہے، جو اسرائیل کی شمالی سرحد پر مسلسل دباؤ ڈالے ہوئے ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا، "ہم نے جنگ نہیں چاہی اور نہ ہی ہم اسے چاہتے ہیں، لیکن ہم کسی بھی صورت میں اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ہم اس تنازع میں شامل تمام فریقوں کو ایک ہی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔"

میا خلیفہ نے آنسوبہاتے ہوئے امریکی حکومت پرشدید الزام عائد کرتے ہوئے اسے پاگل پن قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ لبنان میں کئی دہائیوں سے نسل کشی ہورہی ہے، لیکن پچھلے تین چار سالوں میں یہ اوربھی خطرناک ہوگیا ہے۔

ایرانی صدر نے سخت لہجے میں کہا ہے کہ ’’صہیونی حکومت کی جانب سے لبنان پر نئے حملے سیزفائر کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ایسے اقدامات مذاکرات کو بے معنی بنا دیتے ہیں۔ ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں۔ ایران اپنے لبنانی بھائیوں اور بہنوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔‘‘