نئی دہلی :اسرائیل کی جانب سے لبنان میں مزید حملوں کے الٹی میٹم کے درمیان ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا اہم بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن اپنے حقوق کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ اور تہران کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق 9 اپریل (ایرانی وقت کے مطابق) کو مجتبیٰ خامنہ ای کا تحریری پیغام نشر کیا گیا۔ یہ پیغام ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی 28 فروری کو ہلاکت کے چند ہفتوں بعد جاری کیا گیا ہے۔
“ہم جنگ نہیں چاہتے، لیکن…”
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا، “ہم نے جنگ نہیں چاہی اور نہ ہی ہم اسے چاہتے ہیں، لیکن ہم کسی بھی صورت میں اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ہم اس تنازع میں شامل تمام فریقوں کو ایک ہی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔” ان کے بیان کو حزب اللہ سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ لبنان میں اسرائیل کی جانب سے ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ پر حملے جاری ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
آبنائے ہرمز پر سخت اشارہ
مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی عوام سے کہا کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود احتجاج جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی دباؤ سے بڑے فیصلے بدل سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی اہم اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اس اہم بحری راستے کو سنبھالنے کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی کرنے جا رہا ہے۔
صحت اور قیادت پر قیاس آرائیاں
56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو 28 فروری کو جنگ کے آغاز کے دن ہی سپریم لیڈر مقرر کیا گیا تھا، جب آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای بھی زخمی ہوئے تھے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وہ عوامی سطح پر نظر نہیں آئے اور صرف چند تحریری بیانات جاری کیے ہیں۔ان کی صحت اور مقام کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ دی ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ بے ہوشی کی حالت میں قم میں زیر علاج ہیں اور فی الحال ملک چلانے کی پوزیشن میں نہیں۔ تاہم ان کا تازہ تحریری پیغام سامنے آنے کے بعد ان قیاس آرائیوں کو نئی بحث مل گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

