Bharat Express DD Free Dish

Ayatollah Ali Khamenei

مجتبیٰ خامنہ ای کو تلاش کرنے کا طریقہ اب الیکٹرک سگنل روکنے یا تکنیکی نگرانی تک محدود نہیں ہے بلکہ انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی خفیہ معلومات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ انسانی ذرائع سے خفیہ معلومات حاصل کرنا جاسوسی کا ایک پرانا، سست اور خطرناک طریقہ ہے۔

اسرائیلی اہلکار کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کے نام سے جاری ہونے والے یہ پیغامات دراصل اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈر احمد وحیدی اور تنظیم کے دیگر سینئر عہدیداروں کی جانب سے جاری کیے جا رہے تھے۔

دوسری جانب آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران ایران کی اعلیٰ سیاسی قیادت بھی جذبات پر قابو نہ رکھ سکی۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی تقریب کے دوران آبدیدہ ہو گئے۔

اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی کے مطابق تعزیتی تقریبات ہفتہ اور اتوار کو بھی جاری رہیں گی۔ اس دوران مرحوم کا جسدِ خاکی گرینڈ مصلیٰ میں عوامی دیدار کے لیے رکھا جائے گا۔ اس کے بعد پیر کے روز تہران میں جنازے کا جلوس نکالا جائے گا، جبکہ بعد کی مذہبی رسومات مقدس شہر قم میں ادا کی جائیں گی۔

 ایران کے سپریم لیڈر کے ہندوستان میں نمائندہ آیت اللہ حکیم الٰہی نے بتایا کہ مجتبیٰ خامنہ ای خود اس تدفین تقریب میں شامل ہوکر اپنے والد کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہتے تھے، لیکن وہ ایسا نہیں کرسکیں گے۔

ایرانی حکومت نے صرف محبوبہ مفتی ہی نہیں بلکہ کشمیر اور لداخ کی کئی اہم شخصیات کو بھی سفارتی ذرائع کے ذریعے دعوت نامے روانہ کیے ہیں۔ دعوت پانے والوں میں نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ اور شیعہ لیڈر آغا سید روح اللہ مہدی، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے لیڈر عمران انصاری، لداخ کے رکن پارلیمنٹ محمد حنیفہ، معروف شیعہ عالم مسرور عباس انصاری اور آغا سید حسن موسوی الصفوی شامل ہیں

ایران کے کئی شہروں میں 4 سے 9 جولائی تک آخری رسوم کی تقریب ہونی والی ہے، جس میں لاکھوں لوگوں اورکئی وی آئی پی غیرملکی مہمانوں کے آنے کی بھی امید ہے۔ ایران نے وزیراعظم نریندرمودی کوآیت اللہ علی خامنہ ای کے سرکاری آخری رسومات میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے آخری رسومات کی تاریخ طے ہو گئی ہے۔ محرم کے باعث بدلے گئے شیڈول کے تحت 9 جولائی کو مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کو لے کر معمہ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ زندہ ہیں، لیکن ان کی اصل حالت اور طاقت پر اب بھی پردہ پڑا ہوا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا، "ہم نے جنگ نہیں چاہی اور نہ ہی ہم اسے چاہتے ہیں، لیکن ہم کسی بھی صورت میں اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ہم اس تنازع میں شامل تمام فریقوں کو ایک ہی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔"