Bharat Express DD Free Dish

Ayatollah Ali Khamenei

امریکہ اورایران کے درمیان 28 فروری سے جاری جنگ رک گئی ہے۔ دونوں ملک سیزفائر پر راضی ہوگئے ہیں۔ اس قدم سے پوری دنیا نے راحت کی سانس لی۔ ابنائے ہرمز سے اب جہاز بغیر روک ٹوک کے نکل سکیں گے۔ حالانکہ سیزفائر سے امریکہ میں بیٹھے ایک شخص کو صدمہ لگا ہے۔

اسرائیلی حملوں میں ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت کے بعد جموں و کشمیر میں مسلسل احتجاج دیکھنے کو ملا ہے۔ سری نگر سمیت کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی حملوں کے خلاف مظاہرے کیے گئے اور ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ آنند بھدوریا نے مرکزی حکومت پرامریکہ کے آگے جھکنے کا خطرناک الزام لگایا۔ انہوں نے غزہ-اسرائیل جنگ کے درمیان وزیراعظم کے اسرائیل دورے کی تنقید کرتے ہوئے اسے سیکورٹی سے کھلواڑ بتایا۔ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈرکی تعریف کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی پالیسی پرسوال اٹھائے اور اوم برلا کے خلاف تحریک عدم اعتماد پراپنی بات رکھی۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم  انور ابراہیم نے دونوں فریقین سے اس معاملے کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کی اپیل کی۔ گفتگو میں زور دیا گیا کہ کشیدگی کم کرنے، سفارتی کوششوں کو مضبوط کرنے اور مشرق وسطیٰ میں جاری جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے فوری اور پرامن حل تلاش کرنا ضروری ہے،

 اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کا برین واش کرکے امریکہ کو جنگ میں پہنچا دیا۔ خفیہ رپورٹس کے خلاف ٹرمپ نے اسرائیل کے دباو میں ایران پر حملہ کرکے بڑا سیاسی تنازعہ مول لے لیا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے معاملے میں کانگریس لیڈرراہل گاندھی نے وزیراعظم نریندرمودی پرتنقید کی ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں وزیراعظم مودی کی خاموشی پربھی سوال اٹھائے ہیں۔ راہل گاندھی نے اس معاملے پر پی ایم مودی کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا۔

بیرون ملک جنگوں میں امریکہ کی سابقہ ناکامیوں کے باعث امریکی عوام میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ رائٹرز-اِپسوس سروے کے مطابق صرف 27 فیصد افراد نے ایران پر حملے کی حمایت کی، جبکہ 43 فیصد اس فیصلے سے متفق نہیں تھے اور 13 فیصد افراد غیر یقینی صورتحال میں تھے۔

ابو عاصم اعظمی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بھارت کو اس تنازع کو رکوانے کے لیے سفارتی کوششیں کرنی چاہئیں، کیونکہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات بھارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

پولیس کی جانب سے جاری اپیل میں کہا گیا ہے کہ لوگ توڑ پھوڑ، ہنگامہ آرائی، پتھراؤ یا کسی بھی قسم کی بدامنی کا حصہ نہ بنیں۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف قانون کے خلاف ہیں بلکہ عام شہریوں، تاجروں، طلبہ اور یومیہ مزدوروں کے لیے بھی شدید مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔

ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ کے قتل کے بعد ہندوستان کے کئی ریاستوں میں شیعہ طبقے کے لوگ امریکہ اوراسرائیل کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ اس سے متعلق وزارت داخلہ نے ملک کی مختلف ریاستوں میں ممکنہ تشدد سے متعلق الرٹ جاری کیا ہے۔