Bharat Express DD Free Dish

Ayatollah Ali Khamenei

ایران-اسرائیل جنگ کے درمیان پاکستان کا ایران کے تئیں حمایت دیکھنے کو ملی ہے۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ-اسرائیل کے حملے میں ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر اپنے گہرے رنج و غم اور دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ جماعت اسلامی ہند نے تہران پر ہوئے حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ان کو ہدف بنا کر قتل کئے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔

ایران–اسرائیل کے تنازع کے درمیان آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کی خبروں کے بعد آیت اللہ اعرافی کے عبوری قیادت سنبھالنے کی باتیں سامنے آئی ہیں۔ انہیں عبوری قیادت کونسل میں مذہبی ماہر کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خمنہ ای کی موت کا بدلا لینے کی بات کہی ہے۔ آئی آر جی سی نے انتقام لینے کا عہد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی موجودگی والے 27 فوجی اڈوں اور تل ابیب میں اسرائیلی فوجی تنصیبات پر حملے شروع کر دیے ہیں۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبروں کے بعد عالم اسلام میں غم کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ لکھنؤ میں مسلم مذہبی رہنماؤں نے تین روزہ سوگ اور خصوصی مجلسِ عزا کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔

یہ تمام طلبہ پونے کے معروف تعلیمی ادارے اندرا اسکول آف بزنس اسٹڈیز سے تعلق رکھتے ہیں اور سالانہ تعلیمی مطالعاتی دورے کے تحت پانچ روزہ پروگرام میں شرکت کے لیے دبئی گئے تھے۔ ادارے کے حکام کے مطابق 40 طلبہ کو ہفتہ کے روز بھارت واپس آنا تھا جبکہ باقی 44 طلبہ و طالبات کی واپسی اتوار کو طے تھی، تاہم خطے میں اچانک پیدا ہونے والی جنگی صورتحال نے تمام پروازیں متاثر کر دیں۔

عمان کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر کے مطابق پالاؤ کے پرچم بردار آئل ٹینکر ’اسکائی لائٹ‘ پر عمان کے علاقے مسندم کے ساحل سے تقریباً پانچ ناٹیکل میل کے فاصلے پر حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں چار افراد زخمی ہوئے جبکہ عملے کے تمام 20 ارکان کو محفوظ طریقے سے جہاز سے نکال لیا گیا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال پر کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل فوجی حملوں نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عام شہریوں کی زندگی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

خامنہ ای کی موت کی خبر کے بعد پورے جموں و کشمیر میں حالات حساس بنے ہوئے ہیں اور پولیس و انتظامیہ مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ مختلف علاقوں میں اضافی سکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خامنہ ای کی موت کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے بیان کے بعد عالمی سطح پر زیر بحث آئی، جس کے بعد ایران میں 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا۔ تاہم اس واقعے نے بھارت میں ایک اہم سوال کو جنم دیا کہ آیا خامنہ ای بھارت کے دوست تھے، دشمن یا صرف ایک شراکت دار۔