Bharat Express DD Free Dish

Ayatollah Ali Khamenei

ایران میں موجودہ غیر یقینی صورتحال کے دوران عالمی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ اگر ملک میں اقتدار کی تبدیلی یا ممکنہ تختہ الٹ ہوتا ہے تو کیا رضا پہلوی دوبارہ اقتدار میں آ سکتے ہیں۔ حالیہ بیانات، علاقائی کشیدگی اور عالمی طاقتوں کی سرگرمیوں نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث بین الاقوامی کھیلوں کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی ٹیموں اور کھلاڑیوں کی واپسی کے منصوبے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔

اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کو ایران بھر میں کیے گئے ہدفی فضائی حملوں میں ایران کے وزیر دفاع سمیت اسلامی انقلابی گارڈ کور کے اعلیٰ ترین فوجی حکام ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی دفاعی افواج کے مطابق ان حملوں میں مجموعی طور پر 7 سینئر ایرانی عسکری کمانڈرز مارے گئے۔

ایران کی سیاست میں ایک اہم اور غیر معمولی موڑ اس وقت سامنے آیا جب سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ ہلاکت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف ایران بلکہ عالمی سیاسی حلقوں میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ پہلی مرتبہ اقتدار براہ راست خاندانی دائرے میں منتقل ہونے کا تاثر پیدا ہوا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے درمیان ایران نے اپنی عسکری قیادت میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے احمد واحدی کو اسلامی انقلابی گارڈ کور کا نیا کمانڈر اِن چیف مقرر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ مبینہ طور پر سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد کیا گیا، جس کے نتیجے میں خطے کی سیاسی و فوجی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد سیاسی و مذہبی حلقوں میں بحث تیز ہوگئی ہے، مختلف لیڈروں کے بیانات سامنے آگئے ہیں۔ جانئے بھارت میں کس نے کیا کہا؟

رضا پہلوی ایران کے آخری شاہ کے صاحبزادے ہیں اور گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں وہ بیرونِ ملک سے ایران میں حکومت مخالف احتجاجی تحریکوں کی حمایت کرتے رہے ہیں اور عندیہ دے چکے ہیں کہ موقع ملنے پر وہ تہران واپس آ کر عبوری قیادت کے ذریعے ملک کو جمہوری نظام کی جانب لے جانا چاہتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کو ’’انصاف‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ تاریخ کے سب سے سخت حکمرانوں میں شمار ہونے والے خامنہ ای مارے گئے ہیں اور یہ ایران کے عوام اور پوری دنیا کے لیے انصاف ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں جاری فوجی کارروائی کے دوران کچھ امریکی فوجیوں کی جان جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ میں اس طرح کے نقصانات ممکن ہوتے ہیں، لیکن یہ قدم مستقبل کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق دارالحکومت تہران کے مرکزی علاقوں میں کم از کم تین زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ تہران کے ریپبلک علاقے میں متعدد میزائل گرے،