تل ابیب: اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کو ایران بھر میں کیے گئے ہدفی فضائی حملوں میں ایران کے وزیر دفاع سمیت اسلامی انقلابی گارڈ کور کے اعلیٰ ترین فوجی حکام ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی دفاعی افواج کے مطابق ان حملوں میں مجموعی طور پر 7 سینئر ایرانی عسکری کمانڈرز مارے گئے۔ اسرائیلی فوج یعنی اسرائیلی دفاعی افواج نے اپنے بیان میں کہا کہ کارروائی انتہائی خفیہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر انجام دی گئی، جس میں تہران کے دو مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں ایران کے اعلیٰ سکیورٹی اور دفاعی عہدیدار موجود تھے۔ حملہ اسرائیلی فضائیہ نے کیا جسے ایک ”درست اور منصوبہ بند آپریشن“ قرار دیا گیا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق حملوں میں ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیرزادہ، اسلامی انقلابی گارڈ کور کے سینئر کمانڈر محمد پاکپور اور سپریم لیڈر کے قریبی مشیر علی شمخانی بھی ہلاک ہوئے۔ فوجی بیان میں کہا گیا کہ یہ تمام شخصیات ایران کے میزائل پروگرام، ڈرون آپریشنز اور علاقائی عسکری حکمت عملی میں مرکزی کردار ادا کر رہی تھیں۔ اسرائیل نے الزام عائد کیا کہ محمد پاکپور اسرائیل کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کی منصوبہ بندی کی نگرانی کر رہے تھے جبکہ دیگر ہلاک حکام جدید ہتھیاروں کی تیاری، پراکسی گروپوں کے ساتھ تعاون اور حساس دفاعی منصوبوں سے وابستہ تھے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ان افراد کی ہلاکت خطے کے امن کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
رپورٹس کے مطابق حملے امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی حکمت عملی کا حصہ تھے جن کا مقصد ایران کے عسکری اور اسٹریٹجک ڈھانچے کو کمزور کرنا تھا۔ ان کارروائیوں کے بعد پورے مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا ہے اور متعدد ممالک نے ممکنہ ردعمل کے خدشے کے پیش نظر دفاعی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔
ایرانی حکام کی جانب سے ان ہلاکتوں پر فوری باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سرکاری ذرائع نے سخت جواب دینے کے اشارے دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اعلیٰ فوجی قیادت کو نشانہ بنانا خطے میں جاری کشیدگی کو مزید خطرناک مرحلے میں داخل کر سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات، خصوصاً ایرانی قیادت کو پہنچنے والے نقصانات، 46 سالہ شیعہ مذہبی نظام حکومت کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر ایران نے براہ راست جوابی کارروائی کی تو وسیع علاقائی جنگ کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا، جس کے اثرات عالمی سلامتی اور توانائی منڈیوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

