نئی دہلی :مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے، جب اسرائیل نے ایران پر بڑے حملے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے اس کارروائی کو ’’پیشگی دفاعی حملہ‘‘ قرار دیا ہے۔ حملے کے بعد پورے خطے میں جنگی خدشات بڑھ گئے ہیں اور سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔اسرائیل کے وزیر دفاع Israel Katz نے ملک بھر میں ’’خصوصی اور مستقل ایمرجنسی‘‘ نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں کو انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے۔ حکام کے مطابق ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر عوام کو محفوظ مقامات
کے قریب رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
BREAKING: 🚨 ISRAEL LAUNCHES TERRORIST ATTACK ON IRAN
The terrorist state of Israel has launched an illegal and unprovoked bombing campaign against Iran, plunging the region into chaos.
THIS IS TERRORISM.
pic.twitter.com/YxFtesv2sw— ADAM (@AdameMedia) February 28, 2026
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق دارالحکومت تہران کے مرکزی علاقوں میں کم از کم تین زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ تہران کے ریپبلک علاقے میں متعدد میزائل گرے، جس کے بعد سکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اب تک جانی یا مالی نقصان کی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔اس دوران اسرائیل کے مختلف شہروں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے تاکہ شہری ممکنہ میزائل حملوں کے لیے تیار رہیں۔اسرائیلی فوج کے مطابق احتیاطی اقدامات کے تحت تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں، عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جب کہ ضروری خدمات کے علاوہ بیشتر سرکاری و نجی دفاتر عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei کو سکیورٹی خدشات کے پیش نظر تہران سے ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملوں میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے انٹیلی جنس ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔فی الحال ایران کی جانب سے اسرائیل پر کسی فوری جوابی میزائل حملے کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور کسی بھی ممکنہ ردعمل سے پورا خطہ وسیع تنازع کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

