Bharat Express DD Free Dish

Israel Iran Conflict

سی این این کے مطابق واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ اسرائیل کی براہِ راست شمولیت سے مغربی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ وہیں دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران پر دوبارہ حملے کی تیاری کا اعلان کیا ہے۔

اس دوران خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں، جوابی فوجی کارروائیوں اور وسیع علاقائی جنگ کے خدشات نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے کہا ہے کہ یہ صورتحال حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں نہ روکنے کا نتیجہ ہے۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعے کے اثرات بھارت میں بھی محسوس کیے جانے لگے ہیں۔ ملک میں ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ گھریلو اور کمرشل دونوں قسم کے سلنڈرز کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔

عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے بڑھتے خدشات کے درمیان امریکہ نے بھارت کو روس سے تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی خصوصی چھوٹ دی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے عالمی تیل کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے اور بھارت اپنی توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے متبادل ذرائع کی تلاش میں ہے۔

خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اہم فوجی واقعہ پیش آیا ہے جہاں امریکی فضائیہ کا جدید جنگی طیارہ ایف-15ای اسٹرائک ایگل کویت کی فضائی حدود میں پرواز کے دوران حادثے کا شکار ہو کر گر گیا۔ طیارے کے پائلٹ نے بروقت ایجیکٹ کرتے ہوئے پیراشوٹ کے ذریعے اپنی جان بچالی۔

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ فوجی پیش رفت کے بعد بھارت کی حکومت نے ممکنہ معاشی اثرات کے پیش نظر صورتحال پر گہری نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق خطے میں جاری تنازعہ اگر طویل عرصے تک جاری رہا تو خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی خسارے میں وسعت اور بھارتی روپے پر دباؤ معیشت کے لیے بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی کیفیت کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کی دیر رات کابینہ کمیٹی برائے سلامتی (سی سی ایس) کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ جنگی مہم آئندہ چار ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوج منصوبہ بندی کے مطابق کارروائیاں انجام دے رہی ہے اور کئی اہم عسکری اہداف کو پہلے ہی تباہ کیا جا چکا ہے۔

جوابی کارروائی میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ریاستوں میں موجود بعض امریکی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کیے ہیں۔ دارالحکومت تہران سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر عالمی برادری کی نظریں سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں ممکنہ سفارتی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق دارالحکومت تہران کے مرکزی علاقوں میں کم از کم تین زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ تہران کے ریپبلک علاقے میں متعدد میزائل گرے،