Bharat Express DD Free Dish

Ayatollah Ali Khamenei

جنوری میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ دسمبر میں پابندی کے بعد ملک میں اقتصادی مشکلات کی وجہ سے مظاہرے شروع ہوئے، لیکن 8 اور 9 جنوری کو یہ پورے ملک میں بڑے مظاہروں میں بدل گئے۔ ایران کی خامنہ ای حکومت نے ان مظاہروں کے لیے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

ایڈوائزری میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو بھارتی شہری ابھی تک سفارت خانے میں رجسٹرڈ نہیں ہیں وہ فوری طور پر اپنی رجسٹریشن مکمل کریں۔ اگر ایران میں انٹرنیٹ مسائل کے باعث رجسٹریشن ممکن نہ ہو تو بھارت میں موجود اہل خانہ یہ عمل مکمل کر سکتے ہیں۔

صدر پزشکیان نے انتظامی کوتاہیوں اور خامیوں پر قوم سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی اور عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اللہ کی مدد اور انقلاب کے رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی دانشمندانہ رہنمائی سے کامیابی حاصل ہوگی۔

عمان میں امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات، جوہری معاہدے پر پیش رفت کے اشارے، یورینیم افزودگی اور پابندیوں پر سخت اختلاف برقرار۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے سخت بیانات اور کھلی دھمکیوں کے تبادلے نے مشرقِ وسطیٰ میں بے چینی بڑھا دی ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکہ ہر ممکن طریقے سے ایران سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، تاہم وہ بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران مسلسل خبردار کر رہا ہے کہ کسی بھی حملے کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اتوار کے روز امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس بار جنگ آسانی سے ختم نہیں ہوگی۔ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو یہ علاقائی جنگ میں بدل جائے گی۔

مشرق وسطیٰ میں ایران کو گھیرنے کی امریکی کوششوں کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب عراق میں شیعہ اتحاد نے سابق وزیرِ اعظم نوری المالکی کے نام کو ایک بار پھر وزارتِ عظمیٰ کے لیے آگے بڑھا دیا۔ نوری المالکی کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔ پارلیمانی اکثریت کے پیش نظر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ المالکی آسانی کے ساتھ عراق کے نئے وزیرِ اعظم منتخب ہو سکتے ہیں۔

ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کے کمانڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کو ماضی کے تجربات اور گزشتہ برس کی جنگوں سے سبق سیکھنا چاہیے تاکہ کسی بھی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پُرامن مظاہروں کو شرپسند عناصر نے تشدد میں بدل دیا۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے جمعہ کے روز رپورٹ کیا کہ سکیورٹی فورسز نے بدامنی کے سلسلے میں تقریباً 3,000 افراد کو حراست میں لیا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ٹرمپ کے بیانات کا سخت جواب دیا ہے۔ انہوں نے مظاہرین کو “غدار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی “کمر توڑ دی جائے گی”۔ خامنہ ای نے ان ہلاکتوں اور نقصان کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا اور کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا،