Bharat Express DD Free Dish

Ayatollah Ali Khamenei

ایران اور امریکہ کے درمیان دہائیوں سے جاری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی حکومت کو کھلی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت ناقابلِ قبول ہوگی اور ایسی کسی بھی کوشش کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پرتشدد احتجاج ایران کے تقریباً 21 صوبوں تک پھیل چکا ہے اور 2022 کے بعد اسے ملک کا سب سے بڑا احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔ اس احتجاج کی بنیادی وجہ سنگین معاشی بحران ہے۔ کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی، روزگار کے مواقع کی کمی اور بڑھتی مہنگائی نے عوام میں شدید غصہ پیدا کر دیا ہے۔

ایران میں نئے سال کا آغاز شدید عوامی بے چینی اور پرتشدد احتجاج کے ساتھ ہوا ہے۔ ملک میں بگڑتی معیشت، بے قابو مہنگائی اور کرنسی بحران کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ان مظاہروں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگائے جا رہے ہیں، جبکہ کئی مقامات پر احتجاج پرتشدد صورت اختیار کر چکا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، جنگ کے دوران امریکہ نے خامنہ ای کے ممکنہ ٹھکانوں کی معلومات اسرائیل کے ساتھ شیئر کیں، لیکن ٹرمپ نے مبینہ طور پر ایرانی لیڈر کے قتل کی اسرائیلی منصوبہ بندی کو ویٹو کر دیا۔

امریکہ سے واپس آنے والے اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے ایران کو 60 دن کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔ اسرائیل نے واضح طور پرکہا ہے کہ ایران دوماہ کے اندرامریکہ سے ڈیل کرے اوراپنی افزودہ یورینیم تلف کرے ورنہ تباہی ہوگی۔

 ایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت کرنے سے متعلق شرط رکھ دی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ اوراسرائیل کی طرف سے مستقبل میں حملوں کوروکنے کی قابل اعتماد ضمانت نہیں دی جائے گی، تب تک دونوں ممالک سے کسی بھی طرح کی بات چیت بے ایمانی مانی جائے گی۔

فتویٰ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ "اگر کوئی مسلمان یا اسلامی ریاست ان دشمنوں کی حمایت کرتی ہے تو اسے حرام سمجھا جائے گا۔

وزیر خارجہ نے مزید لکھا کہ اگر صدر ٹرمپ کسی معاہدے کے لیے واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے بارے میں توہین آمیز اور ناقابل قبول زبان کو ترک کرنا چاہیے

۔ ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے قطر میں امریکی ایئربیس پر میزائل حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے "امریکہ کے منہ پر طمانچہ مارا ہے"۔

ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای نے امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کے ایرانی نیوکلیئرسہولیات پر حملے کے دعووں کوغلط بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کواس جنگ سے کوئی فائدہ نہیں ہوا اورایران جنگی پروگرام کو جاری رکھے گا۔