ایران نے امریکہ اور اسرائیل سے بات چیت کے لئے گارنٹی مانگی ہے۔
ایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت کی شرط رکھی ہے کہ جب تک امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے مستقبل میں حملوں کو روکنے کی ’قابل یقین ضمانت‘ نہیں دی جائے گی، تب تک کوئی بھی بات چیت بے ایمانی ہوگی۔ یہ بات ایران کے سفیرڈاکٹر ایراج الٰہی نے ہندوستان میں اے این آئی نیوز ایجنسی کو دیئے ایک ای میل انٹرویو میں کہی ہے۔
امریکہ نے کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی
ایران کے سفر ڈاکٹرایراج الٰہی نے گزشتہ ماہ ہوئے دوبڑے فوجی حملوں کا بھی ذکرکیا۔ اس میں پہلا حملہ 13 جون کواسرائیل نے کیا تھا، جسے’آپریشن رائزنگ لائن‘ نام دیا گیا تھا۔ اس میں اسرائیل نے ایران کی سرزمین پرہوائی حملے کئے، جن میں نتانزاورفورڈو میں نیوکلیئر ٹھکانوں، میزائل پروڈکشن سینٹراورپاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈ بیس کونشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں کئی سینئر آئی آرجی سی کمانڈرس اورنیوکلیئرسائنسدانوں کی موت کی خبریں آئی تھیں۔
اس کے بعد 22-21 جون کو امریکہ نے’آپریشن مڈ نائٹ ہیمر‘ کے تحت ایران کے نیوکلیئرڈھانچے پرحملے کئے۔ ایران نے ان دونوں حملوں کی سخت مذمت کی اورانہیں بین الاقوامی قوانین اوراقوام متحدہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی بتائی۔
آئی اے ای اے کی نگرانی میں تھا نیوکلیئرپروگرام
ڈاکٹر ایراج الٰہی نے کہا کہ اسرائیل نے ہمارے ملک پر حملہ کیا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ ایران کو نیوکلیئر ہتھیار بنانے سے روکنے کے لئے کہا تھا، لیکن اس کے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔ ہمارا جوہری پروگرام انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آآئی اے ای اے) کی سخت نگرانی میں ہے۔ اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیارہیں اوراس نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ انہوں نے امریکی حملوں کو”جارحیت کا جرم” قراردیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں سائبراوردہشت گرد عناصرملوث تھے اوران میں کئی سائنسدانوں، پروفیسروں، فوجی حکام اورمعصوم شہریوں کی جانیں گئیں۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

