ایران میں نئے سال کا آغاز شدید عوامی بے چینی اور پرتشدد احتجاج کے ساتھ ہوا ہے۔ ملک میں بگڑتی معیشت، بے قابو مہنگائی اور کرنسی بحران کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ان مظاہروں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگائے جا رہے ہیں، جبکہ کئی مقامات پر احتجاج پرتشدد صورت اختیار کر چکا ہے۔ مختلف رپورٹوں کے مطابق ان جھڑپوں میں متعدد مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ سیکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار کی بھی موت کی تصدیق ہوئی ہے۔ مبصرین اسے گزشتہ تین برسوں کا سب سے بڑا عوامی احتجاج قرار دے رہے ہیں۔
ابتدائی طور پر یہ مظاہرے دارالحکومت تہران اور چند بڑے شہروں تک محدود تھے، لیکن اب یہ تحریک دیہی علاقوں تک پھیل چکی ہے۔ کوہ دشت، صوبہ اصفہان اور مغربی شہر لوردگان سے ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق کئی مقامات پر مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان براہِ راست تصادم ہوا، جس کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔ تہران میں طلبہ نے بھرپور انداز میں احتجاج کرتے ہوئے ”آمریت مردہ باد“ کے نعرے لگائے۔ طلبہ نے نہ صرف موجودہ نظام کے خلاف آواز اٹھائی بلکہ سابق ایرانی شاہ محمد رضا پہلوی کے بیٹے رضا پہلوی کی حمایت میں بھی نعرے بازی کی۔ امریکہ میں جلا وطن رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی جیت یقینی ہے، کیونکہ وہ متحد ہیں اور ان کا مقصد انصاف پر مبنی ہے۔ انہوں نے موجودہ حکومت کو ایران کی معاشی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
ہلاکتوں کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ فارس نیوز ایجنسی، جو اسلامی انقلابی گارڈ کور سے منسلک ہے، کے مطابق لوردگان میں ہونے والی جھڑپوں میں دو افراد مارے گئے۔ کوہ دشت میں بسیج فورس کا ایک رکن ہلاک ہوا جبکہ 13 افراد زخمی ہوئے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ”ہینگاو“ کا دعویٰ ہے کہ جس بسیج رکن کی موت بتائی جا رہی ہے، وہ دراصل مظاہرے میں شریک تھا اور سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مارا گیا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
مسلسل احتجاج کے باعث ملک کے کئی حصوں میں بازار بند ہو گئے ہیں۔ جنوبی صوبہ فارس کے شہر مرودشت سمیت مختلف علاقوں میں عوام نے کاروبار بند رکھ کر احتجاج کیا۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکومت نے سرد موسم کا حوالہ دیتے ہوئے اچانک سرکاری تعطیل کا اعلان کر دیا، جس کے چلتے ملک کا بڑا حصہ ٹھپ پڑگیا۔ ایران اس وقت شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ مغربی ممالک کی پابندیوں کے سبب مہنگائی دسمبر میں 42.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ایرانی ریال کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں تقریباً نصف رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ جون میں اسرائیل اور امریکہ کے فضائی حملوں سے ایران کے جوہری ڈھانچے اور فوجی قیادت کو بھاری نقصان پہنچا، جس نے پہلے سے خراب حالات کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


