Bharat Express DD Free Dish

Iran protest

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ٹرمپ کے بیانات کا سخت جواب دیا ہے۔ انہوں نے مظاہرین کو “غدار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی “کمر توڑ دی جائے گی”۔ خامنہ ای نے ان ہلاکتوں اور نقصان کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا اور کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا،

دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس وقت جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے جب ایران سے واپس آنے والے بھارتی شہریوں کے استقبال کے لیے ان کے اہلِ خانہ بڑی بے چینی اور امید کے ساتھ موجود تھے۔ گزشتہ چند دنوں سے ایران میں انٹرنیٹ بند ہونے کی اطلاعات نے اہلِ خانہ کی تشویش میں اضافہ کر دیا تھا، تاہم اپنے عزیزوں کی بحفاظت واپسی نے سب کو سکون کا احساس دلایا اور چہروں پر مسکراہٹ لوٹا دی۔

ایران میں ایم بی بی ایس سمیت مختلف کورسز میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی سب سے بڑی تعداد وادیٔ کشمیر سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر سے ہر سال بڑی تعداد میں شیعہ مسلمان ایران میں مختلف مسلم زیارت گاہوں اور تاریخی مقامات کی زیارت کے لیے بھی جاتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت بھی کافی تعداد میں کشمیری شیعہ مسلمان ایران میں موجود ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک خطرناک موڑ پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کی جانب سے سخت فوجی کارروائی کی وارننگ کے بعد قطر میں قائم امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے پر بے چینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

ایران میں جاری شدید اور پرتشدد مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں پہلی مرتبہ ایرانی حکام نے کھل کر اعتراف کیا ہے کہ ملک بھر میں اب تک تقریباً 2000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان ہلاکتوں میں سیکیورٹی اہلکار اور مظاہرین دونوں شامل ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز تہران میں غیر ملکی سفارت کاروں کے ساتھ ایک اہم اجلاس کے دوران کہا کہ ملک میں پیدا ہونے والے موجودہ بحران اور خونریز تصادم کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا بڑا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی طاقتیں ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے اور ممکنہ فوجی مداخلت کا جواز بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف عوام سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہے۔ اس دوران کچھ رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ احتجاج کے دوران چھ بھارتی اور دس افغان شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے، لیکن ایران کے سفیر محمد فتح علی نے اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے۔

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل جاری ہیں، جہاں عوام ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت والی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ ملک میں گزشتہ 84 گھنٹوں سے زائد عرصے سے فون اور انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند ہے۔ امریکی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران میں جاری ان مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے۔

ایران میں جاری بڑے پیمانے پر حکومت مخالف احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پر بعض ویڈیوز اور تصاویر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جن میں مبینہ طور پر خواتین کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جلتی تصاویر سے سگریٹ جلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ برسوں کے جبر کے باعث ایران کی قیادت نے خود ہی اس بدامنی کو جنم دیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق،انہوں نے بہت غلط کام کیے ہیں۔ انہوں نے اپنے عوام کے ساتھ بہت برا سلوک کیا ہے اور اب اسی کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔