Bharat Express DD Free Dish

US-Iran nuclear talks

 اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہوکی سفارتی شکست کودیکھتے ہوئے تل ابیب نے عجیب وغریب فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیل نے جنگ کے میدان سے باہرنہ نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یعنی لبنان پراسرائیل کا حملہ جاری رہے گا۔ اس سے امریکہ کی پریشانی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمزکوکھولنے اورامریکہ کواس کی ناکہ بندی ختم کرنے کی اجازت دینے کی تجویزپیش کی، جبکہ جوہری مذاکرات بعد میں ہوسکتے ہیں۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کردیا۔ امریکہ پہلے جوہری ہتھیاروں پرپابندی چاہتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔

ایران میں نئے سال کا آغاز شدید عوامی بے چینی اور پرتشدد احتجاج کے ساتھ ہوا ہے۔ ملک میں بگڑتی معیشت، بے قابو مہنگائی اور کرنسی بحران کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ان مظاہروں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگائے جا رہے ہیں، جبکہ کئی مقامات پر احتجاج پرتشدد صورت اختیار کر چکا ہے۔

قانون کے متن میں آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کرنے سے متعلق کوئی ٹھوس اقدامات نہیں بتائے گئے، حالانکہ ایجنسی کے معائنہ کاروں کو جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل تھی۔پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے بعد اس بل کو گارڈین کونسل نے منظور کیا، جو قانون سازی کی جانچ پڑتال کی ذمہ دار ہے۔

اسرائیل نے بھی ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف سخت موقف اپنایا ہے اور اسے روکنے کے لیے فوجی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ایران کے حوالے سے بڑھتی ہوئی ہم آہنگی خطے کی سیاسی حرکیات کو تبدیل کر رہی ہے۔

عمان کے دارالحکومت میں ایران کے سرکاری IRIB ٹی وی سے بات کرتے ہوئے، ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ بات چیت عام موضوعات سے ہٹ کر مزید مخصوص تجاویز کی طرف چلی گئی ہے۔ انہوں نے بات چیت کو آگے بڑھنے سے تعبیر کیا لیکن مسائل کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی کو بھی تسلیم کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں فریقوں نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خط کے بعد ایران نے براہ راست مذاکرات سے انکار کیا تھا لیکن بالواسطہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

ان بیانات نے نہ صرف امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کو کشیدہ کیا بلکہ عرب اتحادیوں کی طرف سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا، جس سے ٹرمپ کی سعودی-اسرائیلی تعلقات کو معمول پر لانے کی حکمت عملی پیچیدہ ہو گئی ہے۔

امریکہ نے بدھ کے روز کہا کہ وہ ایرانی تیل کی فروخت میں ملوث سات کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر رہا ہے، جن میں سے چار متحدہ عرب امارات میں ہیں اور ایک ترکی میں ہے۔

ایران اور امریکہ نے عمان میں مذاکرات کے تیسرے دور کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد تہران کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے اور ایران میں یورینیم کی افزودگی پر بات چیت متوقع ہے۔