سعودی عرب نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سعودی حکام نے واضح کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے اور اسے کسی بھی قیمت پر روکا جائے گا۔ سعودی عرب کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کی تو سعودی عرب اور اس کے اتحادی اس کے خلاف سخت اقدامات اٹھائیں گے، جس میں فوجی کارروائی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں کسی بھی طرح کی جوہری دوڑ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ (جے سی پی او اے) سے دستبرداری کے بعد سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک نے اس فیصلے کی حمایت کی تھی، کیونکہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ تاہم، ایران نے معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد اپنی جوہری سرگرمیاں تیز کر دی، جس سے سعودی عرب اور اسرائیل جیسے ممالک میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ سعودی عرب نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرے۔
اسرائیل نے بھی ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف سخت موقف اپنایا ہے اور اسے روکنے کے لیے فوجی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ایران کے حوالے سے بڑھتی ہوئی ہم آہنگی خطے کی سیاسی حرکیات کو تبدیل کر رہی ہے۔ دونوں ممالک ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں اور اس کے جوہری عزائم کو ناکام بنانے کے لیے کام کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اسرائیل نے ماضی میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی دھمکی دی ہے، اور سعودی عرب اس ممکنہ کارروائی کی حمایت کر سکتا ہے۔
عالمی برادری ابھی تک ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے متفقہ لائحہ عمل طے نہیں کر سکی۔ جہاں ایک طرف مغربی ممالک ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں، وہیں سعودی عرب اور اسرائیل جیسے ممالک سخت پالیسی پر زور دیتے ہیں۔ سعودی عرب نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں کو نہ روکا تو خطے میں تنازعات بڑھ سکتے ہیں، جو عالمی معیشت اور توانائی کے شعبے کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

