امریکہ اور ایران کے درمیان دوسرے دور کی میٹنگ ہونے کا امکان ہے۔
ایران اور امریکہ نے عمان میں مذاکرات کے تیسرے دور کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد تہران کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے اور ایران میں یورینیم کی افزودگی پر بات چیت متوقع ہے۔ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ہفتے کے روز مسقط میں مذاکرات جاری ہونے کی تصدیق کی ہے، لیکن ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی یا امریکی ایلچی اسٹیو وٹ کوف نے اس حوالے سے کوئی تفصیل شیئر نہیں کی ہے۔
ان مذاکرات کے تحت امریکہ کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا ہے، جس کے بدلے میں امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد دہائیوں پرانی اقتصادی پابندیاں اٹھائی جا سکتی ہیں۔ ایران نے اپنی طرف سے اشارہ دیا ہے کہ وہ پابندیوں سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے، کیوں کہ ان پابندیوں کی وجہ سے اس کی معیشت مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔ وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی یقین ہے کہ ایک نیا معاہدہ طے پا جائے گا اور ایران جوہری بم بنانے سے باز آ جائے گا۔
ٹرمپ نے معاہدہ کی امید ظاہر کی، لیکن اپنی دھمکی بھی برقرار رکھی
پوپ فرانسس کی آخری رسومات کے لیے روم جاتے ہوئے ایئر فورس ون کے بورڈ پر خطاب کرتے ہوئے بھی ٹرمپ نے اس امید کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے ان کے ساتھ کافی بات چیت کی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ ہم ایک معاہدہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں دوسرے متبادل کے مقابلے میں ایک معاہدہ کر لینا چاہتا ہوں، کیوں کہ یہ انسانیت کے لیے بہتر ہوگا۔‘‘ تاہم ٹرمپ نے اپنی یہ دھمکی اب بھی برقرار رکھی ہے کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوتی ہے تو فوج کا استعمال کیا جائے گا۔ دریں اثنا ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ عمان میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ملک کے دفاعی اور میزائل پروگراموں پر بات نہیں کی جا رہی ہے۔
اسماعیل بغائی نے ہفتے کے روز کہا کہ ’’دفاعی صلاحیتوں اور ملک کے میزائلوں کا سوال [ایجنڈے میں] نہیں ہے اور امریکہ کے ساتھ بالواسطہ بات چیت میں یہ مسئلہ نہیں اٹھایا گیا ہے۔‘‘ واضح رہے کہ یہ بات چیت روم میں ہونے والے دوسرے دور کے مذاکرات کے ایک ہفتے بعد ہوئی ہے جسے دونوں فریقوں نے ’’تعمیری‘‘ قرار دیا تھا۔ 2018 میں ٹرمپ کے ذریعے 2015 کے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ اس کے بعد سے ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر تمام حدود کو ترک کر دیا ہے اور اتنا یورینیم پیدا کر لیا ہے جو اسے جوہری ہتھیار بنانے کے بہت قریب لے آئے ہیں۔ تاہم ایران اس الزام کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے،اور اصرار کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن شہری مقاصد کے لیے ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
