Iran Response Donald Trump: ڈونلڈ ٹرمپ کے ’’ایک ہی وار‘‘ والے بیان پر ایران کا سخت ردعمل، کہا-’’ایران کے غم کو نہیں سمجھ سکتا امریکہ، کیونکہ اس کے پاس نہ تہذیب ہے نہ تاریخ اور نہ ہی عزت‘‘
ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی میت اس وقت تہران میں عوامی دیدار کے لیے رکھی گئی ہے، جہاں ہزاروں سوگوار اور مختلف ممالک کے اعلیٰ وفود انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے پہنچ رہے ہیں۔ خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ ان کی تدفین 9 جولائی کو مشہد میں کی جائے گی۔
Thought People Hated Him: خامنہ ای کے جنازے میں ایرانیوں کو اشکبار دیکھ کر ٹرمپ حیران، سابق سپریم لیڈر کے لیے آنسو بہانے والوں پر کیا بڑا طنز
امریکی صدر نے پھر سے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ہی حملے میں ایران کی پوری قیادت کو ختم کر سکتے تھے، لیکن پھر مذاکرات کے لیے کوئی باقی نہ رہتا۔ آخری رسومات میں اعلیٰ قیادت اور عوام کے غم کا مذاق اڑاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں حیرت ہوئی کیونکہ ان کے خیال میں ایرانی عوام خامنہ ای کو پسند نہیں کرتے تھے۔
US-Iran Agreement: امریکی صدر نے ایران کے ساتھ معاہدے کو بتایا اہم، کہا-’’معاہدے سے آبنائے ہرمز میں کشیدگی ہوگی کم اور عالمی توانائی سپلائی کو ملے گا استحکام‘‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا مذاکرات کا بنیادی مقصد ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ جوہری مواد سے متعلق خدشات اپنی جگہ، لیکن اصل تشویش یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔
Trump is ready to end the war: آبنائے ہرمز بند رہنے کے باوجود ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے تیار، امریکی میڈیا کا بڑا دعویٰ
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق امریکہ بحری راستوں کی بحالی کے لیے کام کر رہا ہے، تاہم اصل فوجی ہدف ایران کی بحری، میزائل اور جوہری صلاحیت کو نشانہ بنانا ہے۔
US releases footage of airstrikes: امریکہ نے جاری کی ایرانی بحری جہازوں پر فضائی حملوں کی ویڈیو، خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خلیجی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو امریکہ اور اسرائیل کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔ صدر پزیشکیان نے کہا کہ ایران پیشگی حملوں کا قائل نہیں، لیکن اگر تہران کے بنیادی ڈھانچے یا اقتصادی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
No peace talks with Washington: امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی ایران نے کی تردید، امریکی صدر کے دعوؤں کے باوجود تہران کا دوٹوک موقف
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے متضاد بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکہ مذاکرات کا دعویٰ کر رہا ہے، وہیں ایران اور اسرائیل اس کی تردید کر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ واضح ہے کہ خطے میں کشیدگی ابھی برقرار رہے گی اور فوری طور پر کسی امن معاہدے کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔
Iran Rejects Trump’s Deal: ایران نے ٹرمپ کے معاہدے کے دعوے کو کیا مسترد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیک فٹ پر
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے مختلف ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے اپنے جنگی جہاز وہاں تعینات کریں، لیکن اس اپیل کو خاطر خواہ حمایت حاصل نہیں ہو سکی اور اب تک کسی ملک نے اس کی باضابطہ حمایت نہیں کی۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اس ’’غیر قانونی جنگ‘‘ کے خلاف جتنا بھی وقت لگے دفاع کے لیے تیار ہے۔
Iran-Israel-US War: ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ بن سکتی ہے بڑی انسانی تباہی، روینہ شمداسانی کا تنازع پرگہری تشویش کا اظہار
ایران کے شہر مناب میں لڑکیوں کے اسکول پر حملے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے اسے انتہائی خوفناک واقعہ قرار دیا اور کہا کہ ہم اس واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 160 سے زیادہ طالبات اس وقت ہلاک ہوئیں جب وہ اسکول میں زیرتعلیم تھیں۔
Iran’s Army chief: ’’آئی آر آئی ایس دینا‘‘ پر حملہ بے جواب نہیں رہے گا، ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے عملے کے ارکان کو پیش کیا خراج
ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے اس جنگی جہاز پر حملے کی سخت مذمت کی۔ یہ جہاز ایران کے جدید ترین جنگی جہازوں میں سے ایک تھا اور ایک فوجی مشق مکمل کرنے کے بعد واپس آ رہا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی فوج اپنے سمندری سرحدوں کا دفاع کرے گی اور اپنی بحری طاقت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پہلے سے زیادہ عزم کے ساتھ کام کرے گی۔
Trump on Mojtaba Khamenei: ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی، کہا-’’نئے ایرانی رہنما کے لیے سکون سے رہنا ہوگا مشکل‘‘
ایران کی مذہبی مجلس اسمبلی آف ایکسپرٹس نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ 56 سالہ عالم دین مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔ اس تقرری کے ساتھ ہی مجتبیٰ خامنہ ای ایران کی تاریخ میں اسلامی جمہوریہ کے تیسرے سپریم لیڈر بن گئے ہیں۔




