Urdu Conclave 2026

No peace talks with Washington: امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی ایران نے کی تردید، امریکی صدر کے دعوؤں کے باوجود تہران کا دوٹوک موقف

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے متضاد بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکہ مذاکرات کا دعویٰ کر رہا ہے، وہیں ایران اور اسرائیل اس کی تردید کر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ واضح ہے کہ خطے میں کشیدگی ابھی برقرار رہے گی اور فوری طور پر کسی امن معاہدے کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ اس کے اور امریکہ کے درمیان کسی بھی قسم کے امن مذاکرات جاری نہیں ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ بات چیت کے اشارے دیے تھے۔ اسلام آباد میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ جنگ دراصل امریکہ کی جانب سے مذاکرات میں ’’دھوکہ دہی‘‘ کا نتیجہ ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اس وقت کسی بھی باضابطہ بات چیت میں شامل نہیں ہے، اور صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔

اسرائیلی موقف کی بھی وضاحت

دوسری جانب اسرائیل کے اقوام متحدہ میں سفیر ڈینی ڈینن نے بھی ایسے کسی مذاکرات سے لاعلمی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کی کارروائیاں جاری ہیں اور ان کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری اور بیلسٹک میزائل صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ ڈینی ڈینن نے کہا کہ کسی بھی تنازع کے اختتام پر سفارت کاری ضروری ہوتی ہے، لیکن فی الحال عسکری کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ طے شدہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو اس تنازع میں ’’فتح‘‘ حاصل ہو چکی ہے اور جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے اور امریکہ کو برتری حاصل ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ حتمی نتائج کے بارے میں یقینی طور پر کچھ کہنا ابھی ممکن نہیں۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار

مشرق وسطیٰ میں جاری اس تنازع کے دوران اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے جاری ہیں، جبکہ ایران بھی مسلسل جوابی کارروائیاں کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی فوج نے حالیہ دنوں میں متعدد حملوں کی نئی لہر شروع کی ہے۔ اس صورتحال کے باعث خطے میں امن کے امکانات فی الحال کم دکھائی دیتے ہیں اور عالمی برادری مسلسل کشیدگی کم کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے متضاد بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکہ مذاکرات کا دعویٰ کر رہا ہے، وہیں ایران اور اسرائیل اس کی تردید کر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ واضح ہے کہ خطے میں کشیدگی ابھی برقرار رہے گی اور فوری طور پر کسی امن معاہدے کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read