Bharat Express DD Free Dish

Global Politics

آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کے پہلے عوامی خطاب کے ساتھ شائع ہونے والی فہرست نے نئی سفارتی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ ایرانی حکومت کی باضابطہ توثیق سامنے نہیں آئی ہے۔ فہرست میں کیراسٹارمر، ایمانوئل میکرون، جورجیا میلونی، فریڈرک مرز، مارکو روبیو، پیٹ ہیگستھ، بریڈ کوپر، مائیک ہکابی، ایال ضمیر اور گیدون سار شامل ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان سیزفائر کے لیے جن 10 نکات پر اتفاق ہوا تھا، ان میں باہمی عدم جارحیت کی ضمانت، ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا، آبنائے ہرمز میں محفوظ راستہ فراہم کرنا، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ اور امریکی افواج کا خطے سے انخلا شامل ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں ممکنہ اقتدار کی تبدیلی ’’رجیم چینج‘‘ کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک ’’نیا گروپ‘‘ سامنے آ رہا ہے، جو بقول ان کے ’’بہت معقول رویہ‘‘ اختیار کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس کئی متبادل موجود ہیں اور خطے میں بڑی تعداد میں جنگی بحری جہاز تعینات ہیں۔

زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین نے گزشتہ چار سالہ جنگ کے دوران ڈرون اور میزائل حملوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر دفاعی نظام تیار کیا ہے۔  انہوں نے اس تجربے کو خلیجی ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش کی تاکہ مشترکہ سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ایرانی فوجی ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ’’خود سے مذاکرات کر رہا ہے‘‘ اور اپنی ناکامی کو معاہدے کا نام دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کے سخت مؤقف اور اپنی شرائط پر اصرار کے بعد واضح ہو گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ تنازع فوری طور پر ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا، جبکہ عالمی توانائی اور سلامتی کی صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔

یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زائد النہیان کے مشیر انور گرگاش نے کہا کہ ملک کو اس وقت ہتھیاروں یا فوجیوں سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ مشکل وقت میں کن ممالک پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی نے اتحادیوں کی حقیقی وابستگی کو واضح کر دیا ہے۔

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے متضاد بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکہ مذاکرات کا دعویٰ کر رہا ہے، وہیں ایران اور اسرائیل اس کی تردید کر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ واضح ہے کہ خطے میں کشیدگی ابھی برقرار رہے گی اور فوری طور پر کسی امن معاہدے کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔

آبنائے ہرمز پر امریکی دباؤ کے درمیان برطانیہ نے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل پر زور دیا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور عالمی برادری اس کے ممکنہ اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے مختلف ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے اپنے جنگی جہاز وہاں تعینات کریں، لیکن اس اپیل کو خاطر خواہ حمایت حاصل نہیں ہو سکی اور اب تک کسی ملک نے اس کی باضابطہ حمایت نہیں کی۔  دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اس ’’غیر قانونی جنگ‘‘ کے خلاف جتنا بھی وقت لگے دفاع کے لیے تیار ہے۔

ایران کی مذہبی مجلس اسمبلی آف ایکسپرٹس نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ 56 سالہ عالم دین مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔ اس تقرری کے ساتھ ہی مجتبیٰ خامنہ ای ایران کی تاریخ میں اسلامی جمہوریہ کے تیسرے سپریم لیڈر بن گئے ہیں۔