Bharat Express DD Free Dish

Global Politics

جاپان کے یہ عام انتخابات نہ صرف وزیراعظم سنائی تاکائچی کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے بلکہ ملک کے اندر سیاسی استحکام یا عدم استحکام کی سمت بھی طے کریں گے۔ ایسے میں پوری دنیا کی نظریں ٹوکیو پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس انتخاب کے نتائج جاپان کی داخلی سیاست کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اس کے کردار پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے مادورو کی گرفتاری کی تصدیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی نکولس مادورو پر ’’منشیات دہشت گردی‘‘ پر مبنی حکومت چلانے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

گزشتہ 80 برسوں میں کسی شامی صدر کا امریکہ کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک دہائی قبل احمدالشرع کے سر پر امریکہ نے 10 ملین ڈالر انعام مقرر کیا تھا اور وہ عراق جنگ کے دوران امریکی فوج کی قید میں بھی رہ چکے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ روس کے ساتھ بھارت کی تیل کی تجارت سے خوش نہیں تھا کیونکہ اس سے ماسکو کو یوکرین جنگ جاری رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’روس نے اب تک تقریباً پندرہ لاکھ افراد کھوئے ہیں، جن میں زیادہ تر فوجی شامل ہیں۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو کبھی شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘‘

وزیراعظم کا اسرائیل اور فلسطین دونوں کے رہنماؤں کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔ درحقیقت، جب وزیر اعظم مودی نے فروری 2018 میں فلسطین کا دورہ کیا، تو وہ پہلے بھارتی وزیر اعظم بنے جنہوں نے فلسطین کا سرکاری دورہ کیا۔ مزید برآں، انہیں فلسطین کے صدر محمود عباس کی جانب سے ’گرینڈ کالر آف دی اسٹیٹ آف فلسطین‘ سے نوازا گیا، جو بھارت اور فلسطین کے تعلقات کو فروغ دینے میں ان کے اہم کردار کو تسلیم کرتا ہے۔

ہیلسنکی سکیورٹی فورم 2025 میں خطاب کرتے ہوئے اسٹب نے کہا: ’’میں نے حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے یوکرین کی صورتحال پر بات کی ہے۔ بھارت کا یہاں ایک جغرافیائی سیاسی داؤ پر لگا ہوا ہے، اس لیے ہمیں انہیں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘