Bharat Express DD Free Dish

Iran Claims Violation of Ceasefire: ایران کا امریکہ پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام، دو ہفتوں کے جنگ بندی معاہدے کے باوجود کشیدگی برقرار

ایران اور امریکہ کے درمیان سیزفائر کے لیے جن 10 نکات پر اتفاق ہوا تھا، ان میں باہمی عدم جارحیت کی ضمانت، ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا، آبنائے ہرمز میں محفوظ راستہ فراہم کرنا، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ اور امریکی افواج کا خطے سے انخلا شامل ہیں۔

 

نئی دہلی: ایران نے امریکہ کے ساتھ حالیہ سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طے شدہ نکات میں سے تین اہم شقوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن پر تاریخی عدم اعتماد کی ایک بڑی وجہ اس کے وعدوں کی بار بار خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ نے ایک بار پھر اپنے طرزِ عمل کو دہرایا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری میں سنجیدہ نہیں ہے۔ ایران کے مطابق سیزفائر کے باوجود خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔

کن نکات کی خلاف ورزی کا دعویٰ؟

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ تین اہم نکات کی خلاف ورزی ہوئی ہے، جن میں لبنان پر اسرائیلی حملوں کا جاری رہنا، ایرانی فضائی حدود میں ڈرون کی دراندازی اور ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم نہ کرنا شامل ہے۔ یہ نکات سیزفائر معاہدے کی بنیادی روح کے خلاف قرار دیے جا رہے ہیں، کیونکہ ان کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور اعتماد سازی کو فروغ دینا تھا۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر ان خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رہا تو جنگ بندی معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

سیزفائر کے 10 نکات—معاہدے کی بنیاد

ایران اور امریکہ کے درمیان سیزفائر کے لیے جن 10 نکات پر اتفاق ہوا تھا، ان میں باہمی عدم جارحیت کی ضمانت، ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا، آبنائے ہرمز میں محفوظ راستہ فراہم کرنا، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ اور امریکی افواج کا خطے سے انخلا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ، بیرون ملک موجود ایرانی اثاثوں کی رہائی، جنگی نقصانات کا ازالہ اور ان تمام نکات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے قانونی حیثیت دینا بھی اس معاہدے کا حصہ تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق ایک وفد جلد ہی مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچے گا، جہاں ان نکات پر مزید بات چیت کی جائے گی۔ تاہم موجودہ صورتحال نے سیزفائر کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے اور خطے میں امن کی کوششوں کو ایک بار پھر غیر یقینی بنا دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read