Bharat Express DD Free Dish

Strait Hormuz

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 28 فروری کو ایرانی سرزمین پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی نگرانی اور کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔ اس کے تحت اسرائیل اور امریکہ سے وابستہ یا ان سے منسلک بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے ہو رہا ہے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ  اب تک دونوں ممالک کے درمیان کسی ٹھوس نتیجے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران آئندہ بیس سال کے لیے اپنے جوہری پروگرام کو معطل کرے اور اپنے پاس موجود افزودہ یورینیم کا ذخیرہ حوالے کرے،

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے۔ اس سے قبل مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا تھا، خاص طور پر جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر اختلافات برقرار رہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر امریکہ بروقت مداخلت نہ کرتا تو آج ایران ایک ایٹمی طاقت بن چکا ہوتا، جس سے عالمی توازن مکمل طور پر بدل جاتا۔ ٹرمپ کے مطابق، …

نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح طور پر کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد کی شدید کمی ایک عارضی جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں فریق بات چیت جاری رکھنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن برسوں پر محیط بداعتمادی کو ایک ہی رات میں ختم کرنا ممکن نہیں۔

ایران نے اس اقدام پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ آئی آر جی سی نے مغربی افواج کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جارحانہ قدم کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ان کے مکمل کنٹرول میں ہے اور اگر کسی نے غلط قدم اٹھایا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ فوری طور پر امریکی بحریہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو روکنے کے اقدامات شروع کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم عالمی تجارت کے تحفظ اور غیر قانونی دباؤ کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ مذاکرات رات گئے تک جاری رہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فریقین کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے کی سنجیدہ کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مرحلہ ممکنہ طور پر اس دور کے مذاکرات کا فیصلہ کن موقع ثابت ہو سکتا ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان کسی بھی جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ایران اور امریکہ کے درمیان سیزفائر کے لیے جن 10 نکات پر اتفاق ہوا تھا، ان میں باہمی عدم جارحیت کی ضمانت، ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا، آبنائے ہرمز میں محفوظ راستہ فراہم کرنا، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ اور امریکی افواج کا خطے سے انخلا شامل ہیں۔