Bharat Express DD Free Dish

Strait Hormuz

میکرون نے اپنے پیغام میں لکھا کہ انہوں نے ایرانی صدر کو یاد دلایا کہ فرانس اپنے قومی مفادات، خطے میں موجود اپنے شراکت داروں اور بین الاقوامی سمندری راستوں پر آزادانہ نقل و حرکت کے تحفظ کے لیے پوری طرح دفاعی اقدامات کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی صورت میں فرانس یا اس کے مفادات کو نشانہ بنانا قابل قبول نہیں ہوگا۔

امریکی صدر کی اپیل کے باوجود اب تک کسی بھی ملک نے براہ راست فوجی مدد فراہم کرنے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ آسٹریلیا نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں اپنی بحریہ کا کوئی جہاز نہیں بھیجے گا۔

امریکی صدر نے کہا، ”مجھے نہیں معلوم کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ ابھی تک کسی نے انہیں عوام کے سامنے نہیں دیکھا۔ میں یہ بھی سن رہا ہوں کہ شاید وہ زندہ نہیں ہیں اور اگر وہ زندہ ہیں تو انہیں اپنے ملک کے لیے ایک دانشمندانہ فیصلہ کرنا چاہیے اور وہ فیصلہ ہتھیار ڈالنے کا ہے“۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی برآمدات گزرتی ہیں۔  بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کے مطابق خلیج فارس کے علاقے میں اس وقت 28 بھارتی پرچم بردار جہاز موجود ہیں اور ان سب کی سکیورٹی پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔