Bharat Express DD Free Dish

Strait Hormuz

ایران کے نائب وزیر کھیل علی رضا رحیمی نے عوام، طلبہ، فنکاروں اور کھلاڑیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ پاور پلانٹس کے گرد انسانی زنجیریں بنا کر ملک کے اہم اثاثوں کا تحفظ کریں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا ’’یہ ہمارے وسائل اور ہماری ملکیت ہیں‘‘ اور عوام سے ان کی حفاظت کے لیے آگے آنے کی اپیل کی تھی۔

یہ تمام پیش رفت آبنائے ہرمز کو کھولنے کے امریکی مطالبے سے جڑی ہوئی ہے۔ امریکہ نے ایران کو واضح کیا ہے کہ اگر اس اہم بحری راستے کو فوری طور پر بحال نہ کیا گیا تو سخت فوجی کارروائی کی جائے گی۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔

مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اب تک ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد ایرانی عوام نے ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کی تیاری ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ایران کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ٹرانزٹ فیس پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، جبکہ سمندری سرگرمیوں اور توانائی سپلائی کو مستحکم رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی اور اقدامات جاری ہیں۔ آبنائے ہرمز کے مغربی حصے میں کام کرنے والے 16 بھارتی جہازوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ ان کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے جوڑنے والا ایک اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے کی بندش عالمی معیشت پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے، خاص طور پر توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔

’’گرین سانوی‘‘ کی کامیاب روانگی اس بات کا ثبوت ہے کہ مشکل حالات کے باوجود بھارت اپنی توانائی ضروریات کو پورا کرنے اور عالمی تجارت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر سفارتی اور سکیورٹی اقدامات کر رہا ہے۔

کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا کہ برطانیہ اس ہفتے تقریباً 35 ممالک کے ساتھ ایک عالمی اجلاس کی میزبانی کرے گا، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور عالمی تجارت کو معمول پر لانے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمندری راستہ عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی بندش سے دنیا بھر میں توانائی اور تجارتی نظام متاثر ہو رہا ہے۔

ایران نے امریکی صدر کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکام نے کہا ہے کہ تہران نے کسی بھی سطح پر جنگ بندی کی درخواست نہیں کی۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کے یہ بیانات سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش ہیں۔

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے بحران کے دوران بھارت کے لیے ایک اہم اور حوصلہ افزا خبر سامنے آئی ہے۔ تقریباً سات سال بعد ایران سے خام تیل کی پہلی کھیپ بھارت پہنچنے والی ہے، جسے توانائی سلامتی کے نقطہ نظر سے نہایت اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق امریکہ بحری راستوں کی بحالی کے لیے کام کر رہا ہے، تاہم اصل فوجی ہدف ایران کی بحری، میزائل اور جوہری صلاحیت کو نشانہ بنانا ہے۔