نئی دہلی: بھارت کی حکومت نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ٹرانزٹ فیس کے معاملے پر ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ شپنگ وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری مکیش منگل نے واضح کیا کہ بھارت نے اس حوالے سے ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسی کسی پیش رفت کی کوئی اطلاع نہیں ہے اور موجودہ علاقائی کشیدگی کے پیش نظر خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بھارتی جہازوں پر مسلسل نظر
مکیش منگل کے مطابق آبنائے ہرمز کے مغربی حصے میں کام کرنے والے 16 بھارتی جہازوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ ان کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایل پی جی لے جانے والے جہاز گرین سانوی اور گرین آشا بحفاظت آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں اور بالترتیب 7 اور 9 اپریل کو بھارت پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ جہاز ہزاروں ٹن ایل پی جی لے جا رہے ہیں، جس سے توانائی سپلائی کا تسلسل برقرار رہے گا۔ پیٹرولیم و قدرتی گیس کی وزارت کی جوائنٹ سیکریٹری سجاتا شرما نے بتایا کہ گزشتہ پانچ ہفتوں میں ملک بھر میں تقریباً 18 کروڑ ایل پی جی سلنڈر تقسیم کیے گئے ہیں، جبکہ روزانہ تقریباً 50 لاکھ سلنڈر گھروں تک پہنچائے جا رہے ہیں۔
بیرون ملک سے واپسی کا عمل جاری
وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سکریٹری اسیم آرمہاجن نے بتایا کہ خلیجی خطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر 28 فروری سے اب تک تقریباً 73 لاکھ بھارتی شہری وطن واپس آ چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سفر کو آسان بنانے کے لیے قطر ایئرویز کی جانب سے روزانہ 8 سے 10 پروازیں بھارت کے لیے چلائی جا رہی ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ٹرانزٹ فیس پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، جبکہ سمندری سرگرمیوں اور توانائی سپلائی کو مستحکم رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی اور اقدامات جاری ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
