Bharat Express DD Free Dish

Global Trade

برکس (BRICS) کی 18ویں سربراہی کانفرنس میں، بھارت نے ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جاری اختلافات کو حل کراتے ہوئے ’نئی دہلی اعلامیہ‘ کی متفقہ منظوری میں کامیابی کے ساتھ کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ بھارت کے سفارتی اثر و رسوخ کا مظہر ہے۔

پیوش گوئل نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے وژن کے مطابق بھارت برکس خاندان کے تمام رکن ممالک کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت صرف مذاکرات تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ ان مباحث کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے سرگرم ہے، تاکہ تمام رکن ممالک کی مشترکہ ترقی، خوشحالی اور صنعتی پیش رفت کو نئی رفتار مل سکے۔

برطانوی حکام نے روسی تیل کی پابندیوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے جہاز کو تحیل میں لیا تھا۔ برطانوی وزیر دفاع ڈین جاروس کے مطابق تحویل میں لیے گئے جہاز کے عملے میں شامل بھارتی اور جارجیائی شہری اس وقت نیشنل کرائم ایجنسی کی تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں۔

نیتی آیوگ کی 11ویں گورننگ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان نے کئی ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کرکے برآمدات اور اقتصادی ترقی کے لیے نئی راہیں ہموار کی ہیں۔

امریکی کورٹ آف انٹرنیشنل ٹریڈ نے ڈونالڈ ٹرمپ کے 10 فیصد عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ جانیے اس فیصلے کا چھوٹے کاروباریوں اور چین کے ساتھ تجارتی مذاکرات پر کیا اثر پڑے گا۔

امریکہ نے جہاز رانی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کو کسی قسم کی فیس یا ادائیگی کرتے ہیں تو انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی ادارہ او ایف اے سی (OFAC) نے واضح کیا ہے کہ ادائیگی کسی بھی شکل میں ہو، چاہے نقد ہو یا ڈیجیٹل، اس پر کارروائی ہو سکتی ہے۔

بھارت نے اس معاہدے کے دوران اپنے حساس زرعی اور ڈیری سیکٹر کا تحفظ بھی یقینی بنایا ہے۔ دودھ، کریم، مکھن، دہی، پنیر اور دیگر زرعی مصنوعات کو اس ایف ٹی اے سے باہر رکھا گیا ہے، تاکہ مقامی کسانوں اور صنعت کو نقصان نہ پہنچے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور انسانی وسائل کے تبادلے کو نئی رفتار دینے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی بات چیت جاری ہے اور اس میں کوئی تعطل نہیں آیا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ جاری مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے اور باہمی مفاد پر مبنی معاہدے کی راہ ہموار کریں گے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ٹرانزٹ فیس پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، جبکہ سمندری سرگرمیوں اور توانائی سپلائی کو مستحکم رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی اور اقدامات جاری ہیں۔ آبنائے ہرمز کے مغربی حصے میں کام کرنے والے 16 بھارتی جہازوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ ان کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔

’’گرین سانوی‘‘ کی کامیاب روانگی اس بات کا ثبوت ہے کہ مشکل حالات کے باوجود بھارت اپنی توانائی ضروریات کو پورا کرنے اور عالمی تجارت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر سفارتی اور سکیورٹی اقدامات کر رہا ہے۔