Urdu Conclave 2026

Middle East Crisis: ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیڈ لائن کے بعد ایرانی صدرمسعود پزشکیان کا بڑا دعویٰ، کہا-’’ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد ایرانی ملک کے لیے جان دینے کو تیار‘‘

مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اب تک ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد ایرانی عوام نے ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کی تیاری ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ایران کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن کے خاتمے سے قبل مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ لاکھوں ایرانی ملک کے دفاع کے لیے اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہیں۔ مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اب تک ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد ایرانی عوام نے ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کی تیاری ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ایران کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

ایران کے نائب وزیر کھیل علی رضا رحیمی نے شہریوں، کھلاڑیوں، طلبہ اور فنکاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ پاور پلانٹس کے گرد ’’انسانی زنجیر‘‘ بنائیں تاکہ ممکنہ فضائی حملوں کو روکا جا سکے۔ انہوں نے اسے قومی اثاثوں کے تحفظ کی کوشش قرار دیا۔

امریکی صدر کا ایران کو الٹی میٹم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو منگل کی رات 8 بجے (واشنگٹن وقت) تک معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے ایسا نہ کیا تو اس کے بجلی گھروں اور پلوں پر بڑے پیمانے پر حملے کیے جائیں گے۔ ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ چند گھنٹوں میں ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر تباہ کیا جا سکتا ہے اور ملک کو ’’پتھر کے دور‘‘ میں دھکیلا جا سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز پر بڑھتی کشیدگی

یہ تنازعہ آبنائے ہرمز کی بندشوں کے درمیان شدت اختیار کر گیا ہے، جو عالمی تیل ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے۔ امریکہ کی جانب سے اسے کھولنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ایران نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے اور کسی بھی لمحے فوجی تصادم میں بدل سکتی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث پورے خطے میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔