Bharat Express DD Free Dish

military escalation

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ڈیل کا ابتدائی خاکہ بتایا گیا ہے، لیکن حتمی فیصلہ مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں ایران کی پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے اب تک اپنی کارروائیوں کی ’’کم قیمت‘‘ چکائی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے، تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کیا، تاہم اشارہ دیا کہ یہ آپشن اب بھی میز پر موجود ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی خام تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث نہ صرف بحری سلامتی بلکہ عالمی توانائی سپلائی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بارودی سرنگوں کی مکمل صفائی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، جس سے عالمی توانائی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل کے سرحدی علاقوں میں قریبی فاصلے سے جھڑپیں بھی رپورٹ کی گئی ہیں، جس سے دونوں جانب صورتحال نہایت کشیدہ ہو گئی ہے۔ ادھر بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف ہدفی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایران نے اس اقدام پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ آئی آر جی سی نے مغربی افواج کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جارحانہ قدم کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ان کے مکمل کنٹرول میں ہے اور اگر کسی نے غلط قدم اٹھایا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ تمام پیش رفت آبنائے ہرمز کو کھولنے کے امریکی مطالبے سے جڑی ہوئی ہے۔ امریکہ نے ایران کو واضح کیا ہے کہ اگر اس اہم بحری راستے کو فوری طور پر بحال نہ کیا گیا تو سخت فوجی کارروائی کی جائے گی۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔

مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اب تک ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد ایرانی عوام نے ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کی تیاری ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ایران کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

طویل تعطل کے بعد اب نئے تجاویز زیر غور ہیں، جن میں کم از کم 60 دن کی جنگ بندی، 10 اسرائیلی یرغمالیوں کی بتدریج رہائی اور ان کی باقیات کی واپسی شامل ہے۔ اس کے بدلے میں بڑی تعداد میں فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں گے۔

آئی ڈی ایف کے مطابق اس کے ڈرون حملے کے نشانے پر ایرانی فوج اور حکومت کے طیارے شامل تھے۔ ان میں ایف-14 اور ایف-5 جنگی طیارے اور اے ایچ-1 ہیلی کاپٹر شامل تھے۔

کم جونگ نے اس بات پر زور دیا کہ اسلحہ فیکٹریوں میں آٹومیشن یعنی بغیر انسانی مدد والے پروڈکشن کو فروغ دیا جائے۔ فیکٹریوں کو اس طرح ڈیزائن کیا جائے کہ کم از کم انسانی مداخلت ہو، مشینیں خود سے کام کریں۔