Iran on Hormuz: آبنائے ہرمز کھولنے کے لئے ایران تیار، امریکا کے سامنے رکھی صرف ایک شرط، 7 دن میں ختم ہو سکتا ہے بحران، دنیا کو ملے گی بڑی راحت
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے پر رضامند ہوجائے تو آبنائے ہرمز کو سات دن کے اندر مکمل طور پر کھولا جاسکتا ہے، تہران نے سفارتی حل کے لیے واشنگٹن سے باضابطہ یقین دہانی بھی مانگی ہے۔
Iran’s strong response to new US sanctions: نئے امریکی پابندیوں پر ایران کا سخت جوابی ردعمل،’دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے‘
امریکا ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک ایران کو معاشی مدد فراہم کریں گے یا اس کے ساتھ تجارت کریں گے، انہیں بھی سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکا کا مقصد ایران کے ساتھ مالی لین دین اور تجارتی تعلقات کو محدود کرنا ہے۔
Trump announces economic war against Iran: ٹرمپ کا ایران کے خلاف معاشی جنگ شروع کرنے کا اعلان، مدد کرنے والے ممالک کو دھمکی
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ امریکہ ایسا معاشی مہم شروع کر رہا ہے، جس کی مثال پہلے کسی ملک کے خلاف نہیں دیکھی گئی۔ ان کے مطابق ایران کو مذاکرات اور معاہدے کے کئی مواقع دیے گئے، لیکن اس نے ان مواقع کا فائدہ نہیں اٹھایا۔
US-Iran Tensions: ’’آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنایا تو تہران کے پل اور بجلی گھروں پر ہوگا حملہ‘‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر دی ایران کو دھمکی
آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم بحری راستوں میں سے ایک ہے۔ دنیا بھر میں بھیجے جانے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس راستے کی اہمیت کے پیش نظر آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ عالمی توانائی منڈی اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کرسکتی ہے۔
Iran-US Tensions: مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کو بنایا نشانہ، کہا-اب مغربی ایشیا میں ’بالادستی‘ پر مبنی موجودگی برقرار نہیں رکھ سکتا ’عظیم شیطان‘
ایرانی سپریم لیڈر نے عراق کے عوام کے نام تحریری پیغام میں کہا ہے کہ خطے میں امریکہ کی بلا روک ٹوک بالادست موجودگی کا تسلسل ایک ’بے وقوفانہ خیال‘ ہے۔ انہوں نے اپنے والد علی خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا عزم بھی دہرایا۔
US attacks on Iran: ایران پر امریکی حملوں کی شدید مذمت، جماعت اسلامی ہند نے کشیدگی کم کرنے کے لیے بھارت سے کی سفارتی کردار ادا کرنے اپیل
سید سعادت اللہ حسینی نے ایران پر نئے امریکی حملوں پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں سفارتی عمل اور امن و استحکام کے لیے ایک سنگین دھچکا قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے اور مذاکرات کے آغاز سے دنیا بھر کے لوگوں میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ خطہ تصادم سے نکل کر امن کی جانب بڑھ رہا ہے، لیکن حالیہ فوجی کارروائی نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
Trump Issues Fresh Warning: ’’ایران نے جنگ بندی کی یقین دہانی کے باوجود کی وعدہ خلافی، آبنائے ہرمز پر ہوگا امریکہ کا مکمل کنٹرول‘‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر دی ایران کو سخت وارننگ
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت اب ’’بحران کے مرحلے‘‘ میں داخل ہو چکی ہے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق بقائی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے معاہدے کو تقریباً فوری طور پر سبوتاژ کر دیا اور ایران کو آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے دی گئی ایک ماہ کی مہلت بھی مکمل نہیں ہونے دی۔
US-Iran Tensions: ایران کی اپیل پر ٹرمپ کا سخت موقف، کہا-“بات چیت کریں گے، لیکن جنگ بندی ختم ہو چکی ہے
جمعرات کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے الزام عائد کیا کہ ایران نے تجارتی جہازوں پر دوبارہ حملے کر کے امریکہ کے ساتھ حالیہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنے کی مزید کوشش کی گئی تو امریکہ اس کا پہلے سے زیادہ سخت فوجی جواب دے گا۔
US Strikes On Iran: ’’ایران پر امریکی حملوں میں اسرائیل کو شامل کرنے کے حق میں نہیں ہے ٹرمپ انتظامیہ‘‘ سی این این کی رپورٹ میں بڑا دعویٰ
سی این این کے مطابق واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ اسرائیل کی براہِ راست شمولیت سے مغربی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ وہیں دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران پر دوبارہ حملے کی تیاری کا اعلان کیا ہے۔
Tensions Escalate Between Iran and US: ایران۔امریکہ کشیدگی میں خطرناک اضافہ، بندر عباس میں دھماکے، بحرین اور کویت نے ایرانی حملے ناکام بنانے کا کیا دعویٰ
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور اور فوج نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بحرین، کویت اور قطر میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ حالیہ یادداشتِ مفاہمت کی بنیاد پر ساٹھ روز کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کر رہے تھے۔





