Bharat Express DD Free Dish

US Iran Tensions

سی این این کے مطابق بعض امریکی حکام کا خیال ہے کہ ٹرمپ رواں سال کے اختتام سے پہلے کسی بھی وقت فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں، تاہم اس کا زیادہ امکان امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی افواج اب امریکی فوجی حکمت عملیوں سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ واقف ہیں، جس کے باعث امریکی فوج کے لیے تمام مطلوبہ اہداف کو تباہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے پر رضامند ہوجائے تو آبنائے ہرمز کو سات دن کے اندر مکمل طور پر کھولا جاسکتا ہے، تہران نے سفارتی حل کے لیے واشنگٹن سے باضابطہ یقین دہانی بھی مانگی ہے۔

امریکا ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک ایران کو معاشی مدد فراہم کریں گے یا اس کے ساتھ تجارت کریں گے، انہیں بھی سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکا کا مقصد ایران کے ساتھ مالی لین دین اور تجارتی تعلقات کو محدود کرنا ہے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ امریکہ ایسا معاشی مہم شروع کر رہا ہے، جس کی مثال پہلے کسی ملک کے خلاف نہیں دیکھی گئی۔ ان کے مطابق ایران کو مذاکرات اور معاہدے کے کئی مواقع دیے گئے، لیکن اس نے ان مواقع کا فائدہ نہیں اٹھایا۔

آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم بحری راستوں میں سے ایک ہے۔ دنیا بھر میں بھیجے جانے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس راستے کی اہمیت کے پیش نظر آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ عالمی توانائی منڈی اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کرسکتی ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے عراق کے عوام کے نام تحریری پیغام میں کہا ہے کہ خطے میں امریکہ کی بلا روک ٹوک بالادست موجودگی کا تسلسل ایک ’بے وقوفانہ خیال‘ ہے۔ انہوں نے اپنے والد علی خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا عزم بھی دہرایا۔

سید سعادت اللہ حسینی نے ایران پر نئے امریکی حملوں پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں سفارتی عمل اور امن و استحکام کے لیے ایک سنگین دھچکا قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے اور مذاکرات کے آغاز سے دنیا بھر کے لوگوں میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ خطہ تصادم سے نکل کر امن کی جانب بڑھ رہا ہے، لیکن حالیہ فوجی کارروائی نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت اب ’’بحران کے مرحلے‘‘ میں داخل ہو چکی ہے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق بقائی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے معاہدے کو تقریباً فوری طور پر سبوتاژ کر دیا اور ایران کو آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے دی گئی ایک ماہ کی مہلت بھی مکمل نہیں ہونے دی۔

جمعرات کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے الزام عائد کیا کہ ایران نے تجارتی جہازوں پر دوبارہ حملے کر کے امریکہ کے ساتھ حالیہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنے کی مزید کوشش کی گئی تو امریکہ اس کا پہلے سے زیادہ سخت فوجی جواب دے گا۔

سی این این کے مطابق واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ اسرائیل کی براہِ راست شمولیت سے مغربی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ وہیں دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران پر دوبارہ حملے کی تیاری کا اعلان کیا ہے۔