Bharat Express DD Free Dish

Iran’s strong response to new US sanctions: نئے امریکی پابندیوں پر ایران کا سخت جوابی ردعمل،’دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے‘

امریکا ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک ایران کو معاشی مدد فراہم کریں گے یا اس کے ساتھ تجارت کریں گے، انہیں بھی سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکا کا مقصد ایران کے ساتھ مالی لین دین اور تجارتی تعلقات کو محدود کرنا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر معاشی کارروائی کے اعلان کے بعد تہران نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو معاشی مدد یا سامان فراہم کرنے والے ممالک کو بھی سنگین نتائج بھگتنے کی وارننگ دی ہے۔ اس اعلان کے بعد بھارت میں موجود ایرانی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایرانی وزارت خارجہ کا بیان شیئر کیا۔ ایران نے واضح کیا کہ امریکی دباؤ اس کے آزادی، وقار اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ تہران نے امریکا کے نئے معاشی اقدامات کو ’اقتصادی دہشت گردی‘ اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔

امریکا ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی تیاری میں

امریکا ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک ایران کو معاشی مدد فراہم کریں گے یا اس کے ساتھ تجارت کریں گے، انہیں بھی سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکا کا مقصد ایران کے ساتھ مالی لین دین اور تجارتی تعلقات کو محدود کرنا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر ان ممالک پر پڑ سکتا ہے جو ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات رکھتے ہیں۔ بھارت بھی ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے امریکی اقدامات سے بھارتی کاروبار پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

’دباؤ سے اپنا مؤقف نہیں بدلیں گے‘

امریکی اقدامات کے جواب میں بھارت میں ایرانی مشن نے ایکس پر وزارت خارجہ کا بیان شیئر کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ نئی پابندیاں ایرانی عوام کے خلاف امریکا کی طویل عرصے سے جاری پالیسی کا حصہ ہیں۔ ایران نے صاف الفاظ میں کہا کہ اس طرح کا دباؤ ملک کی آزادی، وقار اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتا۔ ایران نے اپنے بیان میں 19 اگست 1953 کی بغاوت کا بھی حوالہ دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ امریکا نے نئے اقدامات کا اعلان اسی واقعے کی برسی کے آس پاس کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اسے ایرانی عوام کے خلاف امریکا کی 73 سال سے جاری دشمنی کی ایک اور مثال قرار دیا۔ بیان میں امریکا پر اپنی طاقت استعمال کرکے دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالنے کا الزام بھی عائد کیا گیا اور کہا گیا کہ ایسی پالیسی بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔

پابندیوں کو’اقتصادی دہشت گردی‘ قرار دیا

ایران نے امریکی پابندیوں کو عام شہریوں کے بنیادی حقوق سے جوڑتے ہوئے ان پر سخت تنقید کی۔ وزارت خارجہ کے مطابق معاشی پابندیوں کا براہِ راست اثر ایرانی شہریوں پر پڑتا ہے، اسی لیے انہیں اقتصادی دہشت گردی اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا گیا ہے۔ ایران نے یہ بھی کہا کہ ایسے فیصلے کرنے والوں کو اپنے اقدامات کے لیے جواب دہ ہونا چاہیے۔ تہران کے مطابق معاشی دباؤ کے ذریعے کسی ملک کو اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کرنا قابلِ قبول طریقہ نہیں ہے۔ ایران نے معاشی پابندیوں کو فوجی کارروائی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ جنگ اور معاشی دباؤ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ تہران کا الزام ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فوجی دباؤ کے بعد اب معاشی دباؤ میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کوششوں کے ذریعے اسے اپنی پالیسیوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ تہران نے امریکی پالیسی کو عالمی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ بھی قرار دیا۔

’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی پالیسی پہلے بھی ناکام رہی

ایران نے موجودہ امریکی پالیسی کو ایک پرانی حکمتِ عملی کا اعادہ قرار دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کے ذریعے ایران کو جھکانے کی کوشش پہلے بھی کامیاب نہیں ہوئی، اس لیے وہی طریقہ دوبارہ اپنانے سے نتائج مختلف ہونے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس پالیسی کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی ذمہ داری امریکی حکومت، اس کے منصوبہ سازوں اور اسے نافذ کرنے والوں پر عائد ہوگی۔

اپنے وسائل سے مقابلہ کرنے کا اعلان

تہران نے کہا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکی فوجی، معاشی، سیاسی اور نفسیاتی دباؤ کا مقابلہ کرتا رہے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ملک اپنی داخلی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے دستیاب تمام ذرائع استعمال کرے گا۔ تہران نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ نئے امریکی دباؤ کے باوجود ایران اپنی آزادی، وقار اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read