Bharat Express DD Free Dish

Iran Response

امریکا ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک ایران کو معاشی مدد فراہم کریں گے یا اس کے ساتھ تجارت کریں گے، انہیں بھی سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکا کا مقصد ایران کے ساتھ مالی لین دین اور تجارتی تعلقات کو محدود کرنا ہے۔

ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی میت اس وقت تہران میں عوامی دیدار کے لیے رکھی گئی ہے، جہاں ہزاروں سوگوار اور مختلف ممالک کے اعلیٰ وفود انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے پہنچ رہے ہیں۔ خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ ان کی تدفین 9 جولائی کو مشہد میں کی جائے گی۔

آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظامات ایران کے ساتھ طے کیے گئے ہیں اور آئندہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف پہلے سے زیادہ سخت کارروائی کی جائے گی۔

ایران نے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حزب اللہ پر بڑھتے ہوئے حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، تہران نے آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روک دی ہے، جس سے عالمی توانائی سپلائی پر سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

ایرانی فوجی ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ’’خود سے مذاکرات کر رہا ہے‘‘ اور اپنی ناکامی کو معاہدے کا نام دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کے سخت مؤقف اور اپنی شرائط پر اصرار کے بعد واضح ہو گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ تنازع فوری طور پر ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا، جبکہ عالمی توانائی اور سلامتی کی صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے مختلف ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے اپنے جنگی جہاز وہاں تعینات کریں، لیکن اس اپیل کو خاطر خواہ حمایت حاصل نہیں ہو سکی اور اب تک کسی ملک نے اس کی باضابطہ حمایت نہیں کی۔  دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اس ’’غیر قانونی جنگ‘‘ کے خلاف جتنا بھی وقت لگے دفاع کے لیے تیار ہے۔