Bharat Express DD Free Dish

US Iran Tensions

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور اور فوج نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بحرین، کویت اور قطر میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ حالیہ یادداشتِ مفاہمت کی بنیاد پر ساٹھ روز کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کر رہے تھے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران فوجی کارروائیوں اور اقتصادی پابندیوں نے مغربی ایشیا میں غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ان پیش رفتوں کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔

اسرائیل کے وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز کہا کہ جنوبی لبنان میں تعینات اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے اہلکاروں کو اپنے خلاف یا شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کے خلاف کسی بھی براہِ راست یا ابھرتے ہوئے خطرے کو ناکام بنانے کے لیے مکمل کارروائی کی آزادی حاصل ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر مشرق وسطیٰ کا ایک نقشہ شیئر کیا، جس میں ایران کو امریکی پرچم کے رنگوں میں دکھایا گیا ہے۔ نقشے کے اوپر ’’متحدہ ریاستہائے مشرقِ وسطیٰ‘‘ تحریر کیا گیا ہے۔

آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ مرحلے کی لڑائی میں امریکہ اور اسرائیل نے اپنی پوری طاقت استعمال کی، لیکن ایران نے ابھی اپنی مکمل عسکری صلاحیت استعمال نہیں کی۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث خطے میں تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دیے گئے الٹی میٹم کے بعد عالمی کموڈیٹی مارکیٹ میں زبردست ہلچل مچ گئی ہے۔ بین الاقوامی بازار میں سونا 1 فیصد جبکہ چاندی تقریباً 2.7 فیصد تک گر گئی، جس کا اثر بھارتی سرافہ بازار پر بھی واضح طور پر دیکھنے کو ملا۔

جنگی کشیدگی کے باعث ایرانی کرنسی ریال پر بھی شدید دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ہفتہ کے روز تہران کی اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کے مقابلے ایرانی ریال کی قدر تقریباً 18 لاکھ ریال تک گر گئی، جو اس ماہ کی کم ترین سطح کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی کم نہ ہوئی تو ایران اور عالمی معیشت دونوں پر اس کے مزید سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایران نے اس اقدام پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ آئی آر جی سی نے مغربی افواج کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جارحانہ قدم کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ان کے مکمل کنٹرول میں ہے اور اگر کسی نے غلط قدم اٹھایا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایران کے نائب وزیر کھیل علی رضا رحیمی نے عوام، طلبہ، فنکاروں اور کھلاڑیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ پاور پلانٹس کے گرد انسانی زنجیریں بنا کر ملک کے اہم اثاثوں کا تحفظ کریں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا ’’یہ ہمارے وسائل اور ہماری ملکیت ہیں‘‘ اور عوام سے ان کی حفاظت کے لیے آگے آنے کی اپیل کی تھی۔

مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اب تک ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد ایرانی عوام نے ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کی تیاری ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ایران کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔